سپریم کورٹ میں نیا روسٹر سسٹم لاگو

چیف جسٹس آف انڈیا(سی جے آئی) رنجن گوگوئی نے چہارشنبہ کے دن مختلف بنچوں کو کیسس الاٹ کرنے کا نیا روسٹر جاری کیا۔ انہوں نے طے کیا کہ مفاد عامہ کے معاملات کی سماعت وہ اور جسٹس مدن بی لوکر کی زیرقیادت بنچ کریں گے۔ جسٹس لوکر سیناریٹی کے لحاظ سے جسٹس گوگوئی کے بعد آتے ہیں۔ راشٹرپتی بھون میں حلف لینے کے بعد جسٹس گوگوئی سپریم کورٹ واپس آئے اور انہوں نے کورٹ نمبر ایک میں جسٹس ایس کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف کے ساتھ بنچ کی صدارت کی۔ نئے سی جے آئی نے دن کی شروعات وکیلوں کو یہ بتاتے ہوئے کی کہ سماعت کے معاملات کا پیمانہ نیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیمانہ طے ہونے تک کیسس کی جلد سماعت کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیمانہ طے کریں گے۔ اگر کسی کو کل پھانسی ہورہی ہو تو ہم عجلت کی بات سمجھ سکتے ہیں۔ سی جے آئی نے پی آئی ایل کے معاملات اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی زیرقیادت بنچ سماجی انصاف‘ انتخابات‘ کمپنی لا‘ ٹی آر اے آئی ‘ سیبی اور ریزرو بینک سے جڑے معاملات کی بھی سماعت کرے گی۔ پرسنل لا کے معاملات جسٹس لوکر کی زیرقیادت بنچ کو الاٹ ہوں گے۔ سیناریٹی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر جسٹس کورین جوزف ہیں۔ انہیں لیبر‘ کرایہ اور فوجداری کیسس الاٹ ہوں گے۔ چوتھے سینئر ترین جج جسٹس اے کے سیکری ‘ تحقیر عدالت سے متعلق معاملات کے علاوہ راست و بالواسطہ ٹیکسس کے کیسس کی سماعت کریں گے۔ آئی اے این ایس کے بموجب سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن نیا روسٹر شائع کیا جس کے تحت مفاد عامہ (پی آئی ایل) کیسس کی سماعت چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرقیادت بنچ کرے گی۔ جسٹس مدن بی لوکر کی زیرقیادت بنچ کو بھی یہ معاملات الاٹ ہوں گے۔ پرسنل لا کے معاملات 5 مختلف ججس جسٹس مدن بی لوکر‘ جسٹس اے کے سیکری‘ جسٹس کورین جوزف‘ جسٹس ایم وی رمنا اور جسٹس یو یو للت کے پاس جائیں گے۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا نے فروری میں کوئی بھی معاملہ کسی بھی بنچ کو الاٹ کرنے کا رواج ختم کردیا تھا۔ انہوں نے نیا روسٹر سسٹم لایا تھا جس کے تحت مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت صرف ان کی زیرقیادت بنچ کرسکتی تھی۔ یہ روسٹر سسٹم جنوری میں 4 باغی ججس جسٹس چلمیشور‘ جسٹس رنجن گوگوئی‘ جسٹس لوکر اور جسٹس کورین جوزف کی بے نظیر پریس کانفرنس کے بعد لاگو ہوا تھا۔ پریس کانفرنس میں ان ججس نے الزام عائد کیا تھا کہ سی جے آئی کام تفویض کرنے میں من مانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کھلے پن کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب چھوڑیں