شاہ سلمان‘ امریکی مدد کے بغیرہفتہ بھی اقتدار پر نہیں رہ سکتے: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے ملک سعودی عرب کے بارے میں ایک خلاف مصلحت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر ’دو ہفتہ‘ بھی اقتدار میں نہیں سکتے ہیں۔کل ریاست مسیسپی کے شہر ساؤتھ ہیون میں ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں۔ کیا آپ کہیں گے کہ وہ امیر ہیں۔ اور مجھے بادشاہ پسند ہے، لیکن میں نے کہا تھا کہ ’بادشاہ‘ہم تمہاری حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے بغیر تم دو ہفتہ بھی نہیں رہو گے۔تمہیںاپنی فوج کے لیے معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے ایسا سعودی بادشاہ سے کب کہا تھا۔اس تلخ بیان کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔گذشتہ سال ٹرمپ نے بطور صدر اپنا پہلا غیرملکی دور ہ بھی سعودی عرب کا کیا تھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوپیک رکن ممالک معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارہ ایس پی اے کے مطابق ٹرمپ نے ہفتہ کو شاہ سلمان سے بات کی تھی اور انھوں نے تیل کی منڈیوں میں استحکام کے لیے تیل کی فراہمی کوششوں اور عالمی معاشی ترقی کے معاملات پر بات چیت کی۔سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک اور اوپیک کا اہم رکن ہے، جسے ٹرمپ کی جانب سے تیل کی زیادہ قیمتوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوپیک رکن ممالک ’معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔‘ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ان میں سے بیشتر ممالک کا بلا وجہ دفاع کر رہے ہیں، اور وہ ہم سے اس کا فائدہ بھاری قیمتوں میں ہمیں تیل دے کر حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اچھا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں وہ قیمتیں نہ بڑھائیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتیں میں کمی شروع کریں۔‘شاہ سلمان سے متعلق تبصرے پرڈونالڈ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ بات 82 سالہ سعودی فرماں رواں سے کب کہی تھی۔سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 29 ستمبر کو آخری مرتبہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کے درمیان رابطہ ہوا تھا، جس میں انہوں نے تیل کی پیداوار، منڈیوں میں استحکام کے لیے تیل کی فراہمی کی کوششوں اور عالمی اقتصادی ترقی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ریاض کی جانب سے سعودی بادشاہت سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر اب تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

جواب چھوڑیں