شاہ محمود قریشی کی مائیک پومپیو اور جان بولٹن سے ملاقات

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلہ کے حل کے لیے بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔کل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطہ کی صورت حال پر تبادل خیال کیا گیا۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو باہمی مفادات کے حوالے سے فراغ دلی کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے اور اس ضمن میں منظم فریم ورک کی ضرورت ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کل سہ پہر وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے بھی ملاقات کی۔ دونوں قائدین کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور جنوبی ایشیائی خطہ کی صورت حال سمیت افغانستان کے تنازعہ کے پرامن حل پر گفتگو ہوئی۔واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان کی قیادت میں، افغانستان میں مفاہمت کے عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے وہاں طاقت کا استعمال بے نتیجہ ثابت ہوا ہے۔بیان کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جنوبی ایشیا میں مکمل امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر بھی بات کی۔اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ‘ پاکستان کی نئی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈہ پر عملدرآمد کے لیے اس کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہے۔دونوں قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلہ کے حل کے لیے بات چیت کے موقع کا فائدہ اٹھائیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات ہمیشہ باہمی فائدہ اور جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے ہیں۔خبر رساں ادارہ رائٹر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی حکومت افغان طالبان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے جس سے افغان طالبان کا پاکستانی سرحد پر اثر و رسوخ ختم ہو۔اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی کی سلامتی امور کے مشیر جان بولٹن سے بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سرکاری میڈیا کے مطابق شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن سے کہا کہ افغان مسئلہ کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی زیر قیادت افغانیوں کے درمیان مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن سے خطہ میں بڑھتی ہوئی ہندوستانی جارجیت سے متعلق آگاہ کیا۔وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی امن کی دعوت کا مثبت جواب دے کر ہندوستانی قیادت داخلی سیاست کا شکار ہو گئی۔

جواب چھوڑیں