بورگاؤں میں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ!آر ایس ایس اور بی جے پی قائدین کی ہندوؤں سے اپیل

رنجل منڈل کے موضع بور گاؤں کے مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات ہیں ۔ اس موضع میں شیواجی مجسمہ کی تنصیب کے مسئلہ پر دو فرقوں کے نوجوانوں میں بحث و تکرار اور جھگڑے کے ایک دن بعد آر ایس ایس اور بی جے پی کے قائدین نے مبینہ طور پر مقامی غیر مسلم برادری ، دلتوں سے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کریں ۔ چہارشنبہ کے روز فرقہ پرستوں کے حملہ میں 4مسلمان زخمی ہوگئے تھے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے کارکنوں نے آج ہندوؤں ، دلتوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ غیر مسلم افراد پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کا بائیکاٹ کریں۔ مسلم مزدوروں کو کام نہ دیں۔ زرعی سرگرمیوں سے مسلمانوں کو دور رکھیں ۔ مسلمانوں کی دکانات اور ہوٹلوں کو نہ جانے کی ہدایت دیتے ہوئے ان جماعتوں کے قائدین نے دھوبیوں سے بھی خواہش کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے کپڑے نہ دھویں، فرقہ پرستوں نے آج صبح بورگاؤں میں زبردستی دکانات بند کرانے کی کوشش کی مگر پولیس نے ان کی کوشش کو ناکام بنادیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے ہلکا بید چارج کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کردیا۔بعدازاں دونوں فرقوں کے قائدین کو بودھن اے سی پی رگھو اور سرکل انسپکٹر گوردھن گیری اور ایس آئی امباری، نائک نے رنجل پولیس اسٹیشن طلب کیا جہاں دونوں فرقہ کے لوگوں نے پولیس حکام پر زور دیا کہ وہ پرامن فضاء کو مکدر کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ جابر پاشاہ، قدیر بیگ، وحید پاشاہ، خالد پاشاہ کے علاقہ سنتوش ، گجررمیش، گجر اشوک ، پدا رمیش ، یورا اشوک، موگلی سرینو کے خلاف پولیس نے کیس درج کرلیا ہے۔ بعدازاں بی جے پی کارکنوں نے تحصیلدار رینو کا چوہان اور اے سی پی رگھو کو یاد داشت پیش کرتے ہوئے بورگاوں میں شیواجی کا مجسمہ نصب کرنے کی اجازت دینے پر زور دیااور مجسمہ کی تنصیب کو روکنے والوں کے خلاف کاروائی کی خواہش کی ۔

جواب چھوڑیں