تعلیم کے بغیر سماجی مساوات ممکن نہیں: وینکیا نائیڈو

نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے جمعرات کو کہا کہ خواتین کو تعلیم سے آراستہ کئے بغیر سماجی مساوات ممکن نہیں ہے ۔ صنفی اور سماجی مساوات کا نعرہ اس وقت کامیاب ہوگا جب خواتین کو تعلیم کے ہتھیار سے لیس کیا جائے ۔ نائب صدرجمہوریہ وینکیا نائیڈو نے یہاں یونیورسٹی کالج فارویمن کوٹھی کے14 ویں کانوکیشن ( جلسہ تقسیم اسناد) سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسلوں کے مستقبل کو تابناک و روشن بنانے اور خاندان کو معاشی اور سماجی طور پر مستحکم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ خواتین بالخصوص لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے ۔ انہوںنے طالبات پر زور دیا کہ وہ حصول تعلیم کیلئے شارٹ کٹ کا راستہ منتخب نہ کریں بلکہ سخت محنت، لگن اور عزم مصمم کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ سخت محنت، کو کامیابی کی کلید قرار دیتے ہوئے انہوںنے طالبات اور لڑکیوں پر زور دیا کہ حصول تعلیم میں آنے والی ہر مشکلات کا صبر وعزم کے ساتھ سامنا کریں ۔ کانوکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اس کالج سے انہیں جذباتی لگاو ہے ۔ ان کی بیٹی دیپا وینکٹ ، اسی کالج کی فارغ التحصیل ہے ۔ وہ ، اپنی بیٹی کو کالج چھوڑ نے کیلئے اکثر آیا کرتے تھے۔ انہوںنے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورہ پر آخری نظام آصف سابع میر عثمان علی خان نے1924ء میں اس کالج کی داغ بیل ڈالی تھی آج یہ کالج ایک تناور دخت بن گیا ہے جہاں کم وبیش4ہزار لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ جس میں14 پی جی اور28 یو جی کورسس میں تعلیم کا باقاعدہ نظم ہے اور تلنگانہ کا یہ واحد ویمنس کالج ہے جہاں کیمپس ہاسٹل کی بھی سہولت ہے۔ مادری زبان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے ایک بار پھر کہا کہ بچوں کو مادری زبان ضرور سیکھائیں اور مادری زبان میں ہی بچوں کو تعلیم دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے لڑکیوں اور طالبات سے خواہش کی کہ وہ ، مادری زبان سے دوری اختیار نہ کریں بلکہ اپنی مادری زبان سے انصاف ضرور کریں ۔ گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن مکمل کرچکی طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوںنے طالبات سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ توقع ہے کہ یہ طالبات ، اپنے شعبہ میں کارہائے نمایاں انجام دیں گی ۔ اسناد حاصل کرچکی طالبات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ علم کی روشنی سے ملک کے ہر تاریک گوشہ کو روشن کریں۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت ملک میں20 یونیورسٹیاں ‘500 کالجس تھے آج864 یونیورسٹیاں ،42000 کالجس ہیں ۔ لڑکیاں اپنی قابلیت سے پائلٹ ، سائنس داں ، سیاست داں بن سکتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس کانوکیشن کے ذریعہ وہ اساتذہ کو یہ پیام دینا چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اس کالج میں تعلیم اور اخلاق کی منتقلی کیلئے وقف کریں اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوجائیں تاکہ کالج بہترین اختراعات کے مرکز میں تبدیل ہوسکے ۔ نائب صدرجمہوریہ نے 8 طالبات سمیرا فاروقی، اے شرینا، جی ویرا ، دپیکا ، این رونا ، ایس دیویا، ایس شراونی کو گولڈ میڈلس سے نوازا اور ان کو تہنیت پیش کی ۔اس کانوکیشن میں وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر رام چندرم، رجسٹرار پروفیسر گوپال ریڈی ، کنٹرولر امتحانات عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر کمار، کارگذار ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے شرکت کی ۔کالج فارویمنس کی پرنسپل روجا رانی نے اظہار تشکر کیا ۔

جواب چھوڑیں