جرمن چانسلر کا دورہ اسرائیل‘بنجامن نتن یاہو سے ملاقات

جرمن چانسلر انجیلامیرکل کا ایک روزہ اسرائیلی دورہ دونوں ملکوں کے بین الحکومتی مذاکرات کا تسلسل ہے۔ اْن کی آمد پر عرب بدوؤں کے ایک گاؤں کے بچوں نے احتجاجی پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے جمعرات4 اکتوبر کو اپنے ایک روزہ اسرائیلی دورہ کے دوران ہولوکوسٹ کی یادگار یاد واشیم پر حاضری دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جرمنی کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسری عالمی جنگ کے المیے کو یاد رکھنے کے علاوہ سامیت دشمنی کی مخالفت جاری رکھے گا۔ چانسلر نے یاد واشیم نامی یادگار پر رکھی مہمانوں کی کتاب میں بھی اپنے تاثرات کا اندراج کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات اور ہولوکوسٹ کے المیے کے بعد سامیت دشمنی، اجانب دشمنی، نفرت اور تشدد جیسے رویوں کا انسداد جرمنی کی ذمہ داری ہے۔ میرکل کی شام ایک روزہ دورہ پر اسرائیل پہنچیں تھیں۔دوسری جانب جرمن چانسلر کے دورہ کے موقع پر مغربی کنارے کے ایک گاؤں خان الاحمر کے بچوں نے اپنے گاؤں کے مسمار کیے جانے کے خلاف پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔ جرمن چانسلر اس گاؤں کو مسمار کرنے کی مخالفت کر چکی ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ گاؤں غیرقانونی طور پر بسایا گیا ہے اور یہ قریب گزرنے والی ایک اہم شاہراہ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ جرمن حکام کے مطابق میرکل اور نیتن یاہو کی ملاقات میں توجہ اقتصادی اور ٹیکنیکل تعاون پر مرکوز رکھی جائے گی۔ جرمن چانسلر کے ساتھ اْن کی کابینہ کے چند وزراء بھی اسرائیلی دورے پر ہیں۔ یہ بین الحکومتی مذاکرات ہیں اور آج جمعرات کو مختلف جرمن وزراء اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو اس دورہ کے موقع پر انجیلا مرکل اور یورپی یونین کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ایران کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی پر عمل کریں۔یہ امر اہم ہے کہ انجیلا مرکل کا دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے معاملے پر یورپی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں یورپی یونین کی فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے موقف کو نامناسب قرار دیا تھا۔ اس دورے کے دوران جرمن چانسلر کسی فلسطینی لیڈر سے ملاقات نہیں کریں گی۔

جواب چھوڑیں