سعودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافی جمال خشوگی ترکی میں لاپتہ

ترکی کے استنبول میں واقع قونصل خانہ سے لاپتہ سعودی عرب کا ایک سینئر صحافی کی خشوگی کی تلاش کی جا رہی ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔منگل کو ’واشنگٹن پوسٹ ‘کے لئے کام کرنے والا صحافی خشوگ? اپنی منگیتر کے ساتھ دستاویزسے متعلق کام کے لئے سعودی عرب کے استنبول واقع قونصل خانے گیا تھا۔ مسٹر خشوگ? نے اپنی منگیتر کو باہر چھوڑ کر قونصل خانے میں گیا۔خشوگ? کی منگیتر نے کئی گھنٹے تک قونصل خانے کے باہر انتظار کرنے کے بعد پولیس سے اس واقعہ کی شکایت کی۔سی بی ایس نیوز کے مطابق خشوگی کی ذاتی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ان کو سعودی عرب کے استنبول میں واقع قونصل خانے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ سرکاری دستاویزات کا مطالبہ کر رہے تھے۔2016 میں خشوگی امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف تبصرہ کرنے کے بعد ان کے لکھنے اور ٹوئٹ کرنے پر روک لگا دی گئی تھی۔ اس وقت سعودی لیڈر امریکہ کے نئے صدر کے ساتھ دوستی کو لے کر فکر مند تھے.ترکی کے صدر کے ترجمان ابراہیم ?لن نے کہا ہے کہ ترکی پوری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب کے متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ،’’اس مسئلے کو آسانی سے حل کیا جائے گا‘‘۔سعودی عرب کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ممتاز سعودی صحافی جمال خشوگی استنبول میں سعودی سفارت خانے کے دورے کے دوران لاپتہ ہو گئے ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے صحافی منگل کی دوپہر استنبول میں سعودی سفارت خانے میں داخل ہوئے تھے۔دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ خشوگی سعودی سفارت خانے میں ’روٹین کا پیپر ورک‘ مکمل کرنے گئے تھے اور اس کے بعد سے انھیں اب تک دیکھا نہیں گیا

جواب چھوڑیں