سماج وادی پارٹی بھی بی ایس پی کے نقش قدم پر

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے بھی 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کیلئے اترپردیش میں انتخابی اتحاد کرنے کانگریس کیلئے شرائط پیش کردی ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے کانگریس کو اس بات سے بھی واقف کرایا کہ کوئی بھی انتخابی اتحاد اسی وقت بامعنیٰ ہوسکتا ہے جب یہ ان تینوں ریاستوں میں بھی کیاجائے جہاں نومبر میں انتخابات مقرر ہیں۔ واضح رہے کہ ان ریاستوں میں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ شامل ہیں جہاں نومبر میں انتخابات ہوں گے۔ سماج وادی پارٹی کے ایک سینئر قائد نے آج یہاں کہاکہ پارٹی عہدیدار اور کارکن اترپردیش میں معاہدہ کے عوض راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس سے نشستیں چاہتے ہیں‘ جہاں پارٹی کا پہلے ہی بی ایس پی کے ساتھ اتحاد ہے۔ مذکورہ قائد نے کہا کہ اُن ریاستوں میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کرنے کے بعد اترپردیش میں انتخابی اتحاد احمقانہ معلوم ہوگا۔ سماج وادی پارٹی، ہندی پٹی کی دیگر تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی اپنے پَر پھیلانا چاہتی ہے۔ ان تینوں ریاستوں میں آئندہ ماہ اسمبلی انتخابات مقرر ہیں۔ اکھلیش یادو نے گذشتہ چند ماہ کے دوران کئی مرتبہ مدھیہ پردیش کا دورہ کیا ہے جن میں مدھیہ پردیش کے ضلع شاہدول کا حالیہ دورہ بھی شامل ہے۔ قبل ازیں بی ایس پی نے بھی ان ریاستوں میں اتحاد کیلئے بات چیت کے دوران کانگریس سے ملک گیر معاہدہ کا مطالبہ کیاتھا۔ بعدازاں پارٹی سربراہ مایاوتی نے چھتیس گڑھ میں کانگریس کے بجائے اجیت جوگی کی پارٹی جنتاکانگریس کے ساتھ اتحاد کرلیا اور مدھیہ پردیش میں 22نشستوں کیلئے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا۔ بہرحال کانگریس قائدین نے بی ایس پی کے ساتھ وسیع تراتحاد کی امیدیں ترک نہیں کی ہیں۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے قائدین کا بھی کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں معاہدہ کوقطعیت دے دیں گے۔ ستمبر کے وسط میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے سینئر قائدین نے ملاقات کی تھی تاکہ امکانی اتحاد کے طریقہ کار پر تبادلۂ خیال کیاجاسکے۔ کانگریس کے ایک کارکن نے کہا کہ بات چیت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے کیونکہ سماج وادی پارٹی ذات پات کے معاملہ اور نشستوں کی تقسیم کے بارے میں فکر مند ہے۔ اکھیلیش یادو نے گذشتہ ہفتہ شاہدول میں کہاتھا کہ یہ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مماثل نظریات رکھنے والوں کو ساتھ آنے کا موقع دے۔ سابق رکنِ راجیہ سبھا کرن موئے نندا نے کہاتھا کہ ان تینوں ریاستوں میں جہاں انتخابات مقرر ہیں بعض علاقوں میں سماج وادی پارٹی طاقتور ہے۔ اگر کانگریس اتحاد چاہتی ہے تو اسے دیگر ریاستوں میں بھی اتحاد کرنا ہوگاجہاں ہم ‘ قدم جماناچاہتے ہیں۔ اتحاد یکطرفہ ٹریفک نہیں ہوسکتی جو کانگریس کی سہولت سے یوپی میں کیاجائے۔ سینئر کانگریس قائد پی ایل پونیا نے کہا کہ کانگریس تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرناچاہتی ہے تاکہ بی جے پی سے مقابلہ کیاجاسکے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اکیلے ہوگئے ہیں اور ہماری کوئی طاقت باقی نہیںرہی۔ برائے مہربانی یاد رکھیں کہ 2009ء میں کانگریس نے کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کیاتھا اس کے باوجود اترپردیش میں 23نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی جبکہ سماج وادی پارٹی کو 21 اور بی ایس پی کو 20نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ ایک اور سینئر کانگریس قائد نے کہا کہ سماج وادی پارٹی قائدین کی باتیں محض بات چیت کے دوران اکڑ کے مماثل ہیں۔ دونوں جماعتیں جب اتحاد کا فیصلہ کریں گی تو یہ مسائل اثر انداز نہیں ہوں گے۔

جواب چھوڑیں