ٹی آرایس کے سامنے عظیم اتحاد کی کوئی حیثیت نہیں:کے سی آر

نگرانکار چیف منسٹرکے چندرشیکھر رائو نے دعویٰ کیاکہ ٹی آرایس ‘ایک بار پھر ریاست میں برسراقتدار آئے گی۔ اسمبلی انتخابات میں حکمراں جماعت کو 119کے منجملہ 110 نشستوں پرکامیابی حاصل ہوگی۔ نلگنڈہ میں جمعرات کو منعقدہ پارٹی کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ٹی آرایس سربراہ ونگرانکار چیف منسٹرکے چندرشیکھر رائو نے کانگریس کوشدید تنقید کانشانہ بنایا اور کانگریس کی زیرقیادت تشکیل پائے عظیم اتحاد (مہاکوٹمی) کوبے اثر اور بے فیض قرار دیا ۔ انہوںنے کہاکہ مخالف عوام جماعت کانگریس اوراس کی زیرقیادت بنائے گئے مہاکوٹمی کو ریاست کے عوام مسترد کردیں گے ۔کانگریس قائدین نے الیکشن کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے غریب خواتین میں بتکماںساڑیوں کی تقسیم کے عمل کو روکودیا ہے ۔ اس طرح کانگریس کو موافق غریب پالیسیاں پسند نہیں آرہی ہیں۔ برسراقتدارآنے کے فوری بعد ٹی آرایس حکومت ‘خواتین میں بتکماں ساڑیاں تقسیم کرے گی۔ضلع کی تمام 12 اسمبلی حلقوں سے ٹی آرایس امیدواروں کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ اپوزیشن ‘غلط پروپگنڈہ یہ کررہا ہے کہ سابق ضلع نلگنڈہ میں ٹی آرایس کااثر نہیںہے مگر ہزاروں کی تعدادمیں عوام کی جلسہ میں شرکت اس بات کی گواہ ہے کہ ضلع میں ٹی آرایس کاہی زبردست اثر ہے ۔ سال 2014 کے انتخابات میں ضلع کے 12کے منجملہ 6 حلقوں سے ٹی آرایس امیدوار کامیاب ہوئے تھے مگر اب کی بار تمام 12نشستوں پرگلابی جھنڈا لہراتے ہوئے پارٹی امیدوار کامیابی حاصل کریںگے۔ کے سی آرنے دعویٰ کیاکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ٹی آرایس حکومت ‘ ترقیاتی کاموں کی انجام دہی اورفلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں مصروف رہی ہے ۔ ریاست میں کئی ترقیاتی کام انجام دیئے گئے مگریہ کام کانگریس قائدین کودکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے برقی کے سنگین بحران پر کامیابی کے ساتھ قابوپالیا۔ تلنگانہ ‘ملک کی واحد ریاست ہے جہاں کسانوں کو24گھنٹے برقی مفت سربراہ کی جارہی ہے ۔ ریاست میں پینے کے پانی کے مسئلہ کی یکسوئی کے لئے مشن بھاگیرتا کومتعارف کرایاگیا ہے ۔ اس کے کام قریب الختم ہیں اور آئندہ دوماہ کے اندر ریاست کے تمام گھروں کو نلوں سے پینے کاپانی سربراہ کیا جائے گا۔ کے چندر شیکھر رائو نے چیف منسٹراے پی چندرابابو نائیڈو کو انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر نائیڈو‘ تلنگانہ کے مفادات کے خلاف کام کریں گے تو انہیں مناسب سبق سکھایاجائے گا۔ تلنگانہ کے مفادات کونقصان پہنچانے پر وہ (کے سی آر) خاموش تماشائی نہیںرہیںگے ۔نائیڈو نے وزیر اعظم مودی پردبائو ڈال کرتلنگانہ کے 7 منڈلوں کواے پی میں ضم کرالیاہے ۔ تلنگانہ کے خلاف نائیڈوکی ہرسازش کو ریاست کے عوام ناکام بنادیں گے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی تیز رفتار ترقی کے لئے ٹی آرایس کوایک اور موقع فراہم کریں اورپارٹی امیدواروں کوکامیابی کے ساتھ ہمکنارکرایں۔ جلسہ میں وزیر برقی جگدیش ریڈی ‘ ٹی آرایس امیدوار کنچرلہ بھوپال ریڈی اوردیگر شریک تھے۔

جواب چھوڑیں