پاک ۔ امریکہ تعلقات میں بہتری افغانستان کے حالات پر منحصر :شاہ محمود قریشی

امریکی دارالحکومت میں قائم ایک تھنک ٹینک یونائٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں منعقد ہوئے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بہتری افغانستان کے حالات میں بہتری پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے واشنگٹن جانے کا راستہ کابل سے ہو کر گزرتا ہے۔شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور امریکی حکومتوں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل عسکری نہیں ہے بلکہ مصالحت پر مبنی سیاسی حل ہی کامیاب رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اپنا پورا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کا طالبان پر اثر رسوخ بہت کم ہو چکا ہے۔دوسری جانب، اسی سیمینار میں شریک، پاکستان کے لئے امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے حالات کا بہت مثبت اور مناسب تعین کیا ہے اور انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لئے افغانستان کے حالات بہت اہم ہیں۔ مگر مجھے ان کے خطاب میں کسی ٹھوس اقدام کا اعلان نظر نہیں آیا۔وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اولسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی پچھلی دو حکومتوں میں افغانستان سے متعلق پالیسی کا کنٹرول جی ایچ کیو میں تھا۔ نئی حکومت کے لئے ہمیں ابھی حالات کا جائزہ لینا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے افغان حل کے لئے نظریات میں کافی اتفاق پایا جاتا ہے۔ اور امریکہ کی موجودہ حکومت افغانستان کے سیاسی حل کے لئے بہت پرجوش ہے اور ان کے خیال میں یہ پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سے پہلے پاکستان کی اعلیٰ امریکی حکام تک رسائی نہیں تھی۔بی بی سی کیپاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شکیل آفریدی کے بارے میں امریکہ کا طویل مطالبہ رہا ہے تاہم امریکہ کو ہمارے قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی خود مختاری کا احترام اور بھائیوں جیسا سلوک چاہتا ہے۔’’امریکہ کو باور کرا دیا ہے کہ افغانستان کے معاملہ میں پاکستان کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی بات بن سکتی ہے۔ تعمیری مذاکرات سے ہی مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں، ہمیں مل کر آگے بڑھنا اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہو گا۔‘‘پاکستان کے وزیر خارجہ نے اسلام آباد روانگی سے قبل واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سمیت اعلیٰ امریکی عہدے داروں سے ملاقاتوں کو مثبت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ ہمیں اعلیٰ امریکی حکام تک رسائی نہیں تھی اور ان کی جانب سے شکائتوں کے انبار تھے، لیکن اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔ اعلیٰ حکام سے ہماری ملاقاتیں جاری ہیں اور ہمیں ان تک اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔وزیر خارجہ قریشی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ہمارے قوانین کا احترام کیا جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کی مدد کے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ کیونکہ پاکستان کا استحکام افغانستان کے استحکام سے جڑا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ قریشی کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی کے معاملے میں امریکہ سے پاکستان کا طویل عرصے سے تعلق رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اب حالات سازگار ہیں اور اورسیز پاکستانی ان کی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں گے۔

جواب چھوڑیں