پوٹن کی‘ دہلی آمد‘ وزیر اعظم کی جانب سے عشائیہ کا اہتمام

صدر روس ولادیمیرپوٹن وزیر اعظم نریندرمودی کے ساتھ سالانہ باہمی چوٹی ملاقات کرنے کے مقصد سے دوروزہ دورہ پر آج یہاں پہنچے ‘ وزیر خارجہ سشما سوراج نے طیرانگاہ پر اُن کا خیر مقدم کیا۔ پوٹن کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹوئیٹ پر بتایا ’ ’ ہندوستان اور روس کے درمیان دیرینہ دوستی‘ وقت کی کسوٹی پر کھری اُتری ہے۔ ہند۔ روس سالانہ باہمی چوٹی ملاقات کیلئے پوٹن ہندوستان پہنچے ہیں۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے گہری دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کا گرمجوشانہ استقبال کیا‘‘۔ ہند۔ روس 19ویں سالانہ باہمی چوٹی ملاقات کل (5اکتوبر کو) یہاں منعقد ہوگی۔ توقع ہے کہ مودی اور پوٹن ‘ روسی دفاعی کمپنیوں کیخلاف امریکی تحدیدات کے پس منظر میں باہمی دفاعی تعلقات کا جائزہ لیں گے۔ امکان ہے کہ دونوں قائدین اہم علاقائی اور عالمی مسائل بشمول ایران کے کروڈ آئیل کی درآمد پر امریکی تحدیدات پربھی تبادلہ خیال کریں گے۔ اِ س دورہ کے موقع پر S-400 ٹرمف فضائی دفاعی میزائیل سسٹم اگریمنٹ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ گذشتہ منگل کو کریملن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ پوٹن‘ 5بلین ڈالر کی اِس معاملت پر دستخط کی تقریب کی نگرانی کریں گے۔ طیرانگاہ دہلی پر سشما سوراج کی جانب سے خیر مقدم کئے جانے کے بعد پوٹن وہاں سے سیدھے وزیر اعظم نریندرمودی کی سرکاری قیامگاہ لوک کلیان مارگ پہنچے جہاں دونوں قائدین نے شرکاء کے بغیر ملاقات کی اور بعد میں مودی نے دورہ کنندہ شخصیت کے اعزاز میں ایک خانگی عشائیہ ترتیب دیا۔ کل ہند۔ روس 19ویں سالانہ چوٹی ملاقات کے دوران دونوں قائدین باہمی‘ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ انسداد دہشت گردی میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی۔ صدرروس کے ساتھ اِس دورہ میں شامل اعلیٰ سطحی وفد میں نائب وزیر اعظم روس یوری بیوروسوف‘ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور وزیر صنعت وتجارت ڈینس منٹوروف ونیز دیگر اہم شخصیتیں شامل ہیں۔ پوٹن سے ملاقات سے عین قبل مودی نے ٹوئیٹ پر کہا ’’ صدرپوٹن‘ ہندوستان میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ہم آپ سے مذاکرات کے منتظر ہیں جن سے ہند۔ روس دوستی کو مزید وسعت ملے گی‘‘۔ یہ ٹوئیٹ ‘ روسی زبان میں بھی پوسٹ کیا گیا۔ نئی دہلی میں پوٹن کی آمد کے ساتھ ہی روسی خبررساں ا یجنسی ٹاس نے خبردی کہ جمع5اکتوبر کو متعدد باہمی معاہدات پر دستخط ہوں گے جن میں 5بلین ڈالر مالیت کا کنٹراکٹ بھی شامل ہے جو ہندوستان کو ایس۔400 فضائی ‘ دفاعی میزائل سسٹمس کی فراہمی سے متعلق ہے۔ پوٹن کے دورہ سے کچھ قبل صدرروس کے رفیق یوری یوشا کوف کے حوالہ سے میڈیا نے بتایاکہ روس اور ہندوستان ‘ پوٹن۔ مودی مذاکرات کے اختتام پر زائد از 20دستاویزات پر دستخط کا منصوبہ بنارہے ہیں اور پوٹن‘ 5بلین ڈالر کی مذکورہ معاملت پر دستخط کی تقریب کی نگرانی کریں گے۔ دفاع‘خلائ‘ تجارت‘ توانائی ‘ سیاحت اور دیگر اہم شعبہ جات میں تعاون کو فروغ دینے کے معاہدات پر دستخط کا امکان ہے۔ S-400میزائل سسٹم معاملت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر اِس معاملہ پر دستخط ہوجائیں تو اِس سے اُن امریکی تحدیدات کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے جو تحدیدات ایکٹ (CAATSA) کے ذریعہ امریکہ کے معاندین کا‘ رد کرنے کیلئے عائد کی گئی ہیں۔ روس سے اسلحہ کی خریدی پر (خریدی کے رد کیلئے) امریکی کانگریس نے مذکورہ ایکٹ وضع کیا۔ امریکہ نے حلیفوں پر زوردیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ معاملتیں ترک کردیں۔ اِس طرح یہ ایک وارننگ ہے کہ S-400 میزائیل دفاعی سسٹم ‘ جس کو ہندوستان خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ اِس اعتبار سے(امریکہ کیلئے) توجہ کا ’’ مرکز‘‘ بنے گا کہ روس کے ساتھ ’’ اہم‘‘ تجارتی معاملتیں کرنے والے کسی ملک کیخلاف تعزیری تحدیدات پر عمل کیا جائے۔ تاہم امریکی قانون سازوں نے ایک صدارتی استثنیٰ کے امکانات کی اجازت دی ہے۔ ہندوستان نے پہلے ہی یہ اشارے دیئے ہیں کہ امریکی تحدیدات کے باوجود وہ مذکورہ معاملت کو آگے بڑھائے گا۔وزیر دفاع نرملا سیتارمن حال ہی میں کہا تھا کہ ’’ جہاں تک دیگر ممالک سے تعلق کا سوال ہے ہندوستان اپنے اقتدار اعلیٰ کو برقراررکھے گا۔ ہم پورے خلوص نیت کے سا تھ اُس کو برقراررکھیں گے‘‘۔

جواب چھوڑیں