پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں 2.50 روپے کی کمی

ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں سے شدید متاثر صارفین کو ایک بڑی راحت میں حکومت نے آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2.50 روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے جس کے نتیجہ میں 6 ماہ میں 10,500کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوگا۔ حکومت نے ریاستوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسی ہی کٹوتی کریں تاکہ 5 روپے فی لیٹر تک کی کمی ہوسکے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اس راحت کا اعلان کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ اکسائز ڈیوٹی میں 1.50روپیہ فی لیٹر تک کی کٹوتی کرتے ہوئے یہ کمی لائی جائے گی۔ تیل مارکٹنگ کمپنیاں ایک روپیہ فی لیٹر تک کا نقصان برداشت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں ریاستوں کو بھی مکتوب روانہ کررہا ہوں تاکہ ویاٹ میں مماثل رقم کی کٹوتی کی جاسکے اور صارفین کو ریٹیل قیمتوں میں 5 روپے تک کی راحت حاصل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں آج ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا اور اس کے فوری بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہوگا۔ واضح رہے کہ کرناٹک‘ مغربی بنگال‘ راجستھان اور آندھراپردیش کی حکومتوں نے گذشتہ ماہ ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر ٹیکسس میں کٹوتی کردی تھی۔ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ مابقی مالیاتی سال کے دوران اس فیصلہ کا اثر آمدنی پر ہوگا اور تقریباً 10,500 کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوگا جو مالیاتی خسارہ کا صرف 0.05 فیصد حصہ ہے۔ مرکزی وزیر نے اکسائز ڈیوٹی میں کمی کے باوجود مالیاتی خسارہ کے نشانہ کو پورا کرنے کا اعتماد ظاہر کیا اور کہا کہ اضافی آمدنی ‘ اس کٹوتی کا اثر جذب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مالیاتی خسارہ پر اثرانداز ہوئے بغیر صارفین کی خریداری کی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے راحت فراہم کرے۔ جیٹلی نے کہا کہ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں غیریقینی کی کیفیت کے سبب صارفین کو راحت فراہم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے اور توقع سے بہتر مالیہ کی وصولی کے سبب یہ ممکن ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عوامل جیسے خام تیل کی بڑھتی قیمتوں‘ داخلی پالیسی اور دیگر اقدامات جیسے امریکہ کی جانب سے شرح سود میں اضافہ نے ہندوستان کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلی اشاریئے مضبوط و مستحکم ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کے سوائے جو راست طورپر تیل کی قیمتوں سے مربوط ہے‘ دوسرا تمام ڈاٹا حوصلہ افزا ہے۔

جواب چھوڑیں