گلو آف ہوپ‘ کی لڑکی کا 102سال کی عمر میں انتقال

 مشہور پینٹنگ ’’گلو آف ہوپ‘‘ میں چراغ ہاتھ میں لیے جو لڑکی کھڑی ہے ،اس کا 102سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔گیتا اُپلیکر نے مختصر علالت کے بعد کولہاپور میں اپنی بیٹی کے گھر منگل کی شام آخری سانس لی۔ ایس ایل ہلدانکر کی شاہکار پینٹنگ فی الحال میسور کے جگن موہن پیالیس کے جئے چما راجندر آرٹ گیلری میں موجود ہے ۔ تقریباً سات دہائی قبل 1945-46میں یہ پینٹنگ بنائی گئی تھی مگر آج بھی فنِ مصوری کے شائقین کے لیے یہ اتنی ہی کشش رکھتی ہے۔ اگرچیکہ اس شاہکار کے خالق ہلدانکر ہیں مگراسے غلط طریقے سے افسانوی پینٹر راجہ روی ورما سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پینٹنگ میں جو لڑکی ہے وہ گیتا اپلیکر ہے جو ہلدانکر کی تیسری بیٹی ہے۔ وہ 1940ء کے دہے میں جوہری کرشناکانت اُپلیکر کے ساتھ شادی کے بعد سے کولہاپور میں مقیم تھیں۔ ان کی آخری رسومات منگل کے روز 11بجے شب اداکی گئیں۔ گیتا کے بھتیجہ راجہ اُپلیکر نے یہ بات کہی۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے اور وہ اپنی بیٹی کے گھر مقیم تھی جو امریکہ میں رہتی ہے۔گیتا نے اپنی 100ویں سالگرہ کے موقع پر کولہاپور میں منعقد تقریب میں کہا تھا کہ اس وقت میں 12سال کی تھی اور دیوالی کا دیپ جلارہی تھی جب بھائو (والد ہلدانکر) نے مجھے دیکھا اور تصویر بنانے مجھے پوز دینے کو کہا۔یہ پینٹنگ تین دن میں مکمل ہوئی۔ راجہ اپلیکر نے کچھ دن قبل کہا تھا کہ فرانس کا ایک خریدار اس پینٹنگ کو 8کروڑ میں خریدنے تیار تھا مگر میسور گیلری ے اسے فروخت کرنے سے انکار کردیاجس نے ہلدانکر سے اس پینٹنگ کو 300 روپئے میں خریدا تھا۔گیتا اُپلیکر نے کہا تھا کہ پینٹنگ بناتے وقت انہیں مسلسل تین گھنٹوں تک ساکت کھڑا رہنا پڑا تھا۔

جواب چھوڑیں