ہندوستان سے 7روہنگیاوں کی پہلی بارمیانمارکو حوالگی

ہندوستان نے آج پہلی مرتبہ 7 روہنگیا تارکین وطن کو میانمار کے حوالہ کردیا جو آسام میں غیرقانونی طورپر مقیم تھے۔ ان غیرقانونی تارکین وطن کو 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ آسام کے ضلع سلچر کی کچہار سنٹرل جیل میں محروس تھے۔ آسام کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس(بارڈر) بھاسکر جے مہنتا نے پی ٹی آئی کو فون پر بتایا کہ 7 میانماری شہریوں کو آج ملک بدر کردیا گیا ۔ انہیں منی پور میں موریہہ سرحدی چوکی پر میانمار کے حکام کے حوالہ کیا گیا۔ میانماری سفارت کاروں کو سفارتی رسائی دی گئی تھی جنہوں نے ان تارکین وطن کی شناخت کی توثیق کی تھی ۔پڑوسی ملک کی حکومت نے ریاست راکھین میں ان کے پتوں کی توثیق کی تھی جس کے بعد ان غیرقانونی تارکین وطن کی میانماری شہریت کی توثیق ہوئی تھی اور میانمار نے ان سب کو سفری دستاویزات دیئے تھے۔ واضح رہے کہ پہلی مرتبہ ہندوستان سے روہنگیا تارکین وطن کو میانمار واپس بھیجا گیا ہے۔ قبل ازیں موصولہیواین آئی کی اطلاع کے بموجب سپریم کورٹ نے آسام کے سلچر میں حراست میں رکھے گئے سات روہنگیا مسلمانوں کی میانمار کو حوالگی کے خلاف دائر پٹیشن آج مسترد کر دی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر صدارت بنچ نے سات روہنگیا مسلمانوں کی حوالگی کے مرکزی حکومت کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار کر دیا۔جسٹس گوگوئی نے کہا’’یہ روہنگیا غیر قانونی طریقے سے ہندوستان میں رہ رہے تھے اور میانمار حکومت نے انہیں اپنا شہری تسلیم کیا ہے۔ایسی صورت میں ان کی حوالگی کے مرکز کے فیصلہ میں دخل دینا مناسب نہیں ہے‘‘۔اس سے پہلے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ایک حلف نامہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ میانمار کے سفارت خانہ نے ان لوگوں کو سرٹیفکیٹ آف آئیڈنٹیٹی(شناخت کا صداقت نامہ) دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن درخواست گزار کی جانب سے پیش پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ یہ لوگ غیر قانونی اوورسیز شہری نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ کے حکام کو ان لوگوں سے بات چیت کرنے دے۔میانمار کے حوالہ کیے جانے والے ساتوں روہنگیا ئی مسلمانوں کے نام ہیں- محمد یونس، محمدشبیر احمد، محمد جمال، سلام، محمد مکنل خاں، محمد رحیم الدین اور محمد جمال حسین۔ ان میں سے چھ میانمار کے فیدا ضلع کے کیٹو گاؤں کے ساکن ہیں جبکہ شبیر احمد برما گاؤں کا ساکن ہے۔یہ لوگ 2012 سے مقیم تھے اور غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے کی پاداش میں جیل بھی جا چکے ہیں۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ تمام روہنگیا تارکین وطن اپنے ملک واپس جانے سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے محروسی کے دوران ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر حکومت آسام سے اظہار ِ تشکر کیا ہے۔

جواب چھوڑیں