بورگائوں میں مسلم کرائے دار کا تلک لگانے سے انکار۔ موضع میں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ جاری!

رنجل منڈل کے موضع بورگائوں میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے مقامی مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں نے کل بورگائوں میں مسلمانوں کا سماجی مقاطعہ (بائیکاٹ) کرنے کی اپیل کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے ایک ہندو کے مکان میں کرائے سے رہنے والے مسلم خاندان کے افراد کو تلک لگانے کیلئے مجبور کیا مگر کرائے دار گورے میاں نے تلک لگانے سے انکار کردیا اور رات میں ہندو کا مکان خالی کردیا۔ اس بات کی اطلاع ملنے پر مقامی غریب مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سماجی بائیکاٹ کی اپیل پر آٹو رکشہ ڈرائیوروں نے مسلمانوں کو آٹو میں بٹھانے سے انکار کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو میڈیا کی یکطرفہ رپورٹنگ سے فرقہ پرست اور سماج دشمن عناصر کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر مقامی پولیس نے بی جے پی کارکنوں کے خلاف کیس درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا اور ان افراد کو عدالتی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ بورگائوں میں صورتحال‘ سنگین ہوتی جارہی ہے۔ بی جے پی اور شیوسینا کے ارکان‘ برسر عام مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔ مسلم کرائے دار کی جانب سے مکان خالی کرنے کی اطلاع کے بعد اے سی پی بودھن رگھو اور سرکل انسپکٹر گووردھن کی زیر قیادت‘ موضع میں رات دیر گئے پولیس گشت جاری ہے اور دن میں بھی طلایہ گردی میں اضافہ کردیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جاسکے۔ بورگائوں میں رات میں امتناعی احکام نافذ کردئیے گئے ہیں۔ پورے موضع کو عملاً ایک چھائونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ جگہ جگہ پولیس پکٹس تعینات کردئیے گئے۔ دریں اثناء صدر جمعیت العلماء بودھن محمد جابر اشاعتی نے موضع بورگائوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام کے تمام طبقات سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اے سی پی اور آر ڈی او بودھن سے خواہش کی کہ وہ دونوں فرقوں کے بڑے افراد کو طلب کرتے ہوئے موضع میں برقراری امن کیلئے سعی کریں۔

جواب چھوڑیں