بی جے پی سے مفاہمت کا سوال ہی نہیں: کے ٹی آر

ٹی آر ایس قائد وریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما رائو نے کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی‘ بی جے پی کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔ ہم‘ بی جے پی سے نہ مفاہمت کریں گے اور نہ ہی اس پارٹی سے تائید وحمایت حاصل کریں گے۔ ٹی آر ایس‘ سیکولر علاقائی پارٹی ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے نظریات وخیالات میں نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نگرانکار چیف منسٹر و ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندرشیکھر رائو کے فرزند کے تارک راما رائو(کے ٹی آر) نے مہاگٹھ بندھن کو مہاگھٹیا بندھن سے تعبیر کیا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور ٹی ڈی پی کی زیر قیادت عظیم تر اتحاد تشکیل دیا گیا ہے جس میں دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں۔ کل‘ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ٹویٹر پر اپنے چاہنے والوں سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے یہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس‘ انتہائی سیکولر پارٹی ہے۔ ہماری پارٹی میں تمام رنگ ونسل اور سماج کے تمام طبقات کے افراد شامل ہیں۔ طبقہ کی اساس پر ہم عوام کو مقسم کرنا نہیں چاہتے۔ ہماری پارٹی‘ مدہبی‘ رنگ ونسل‘ بھید وبھائو کی بنیاد پر عوام کو منقسم کرنے کے خلاف ہے اس لئے‘ بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس کی مفاہمت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کے ٹی راما رائو نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی‘ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا‘ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس‘ بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کرے گی تو انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے مفاہمت کا سوال نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہا کہ کئی مسائل پر ہم‘ بی جے پی سے سخت اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور تلگودیشم نے عظیم اتحاد تشکیل دے کر تلنگانہ عوام بالخصوص تلنگانہ کے قیام کیلئے اپنی جانوں کی قربانیاں دے چکے افراد کے ساتھ شدید ناانصافی کی ہے۔ تلنگانہ عوام کو ان دو جماعتوں کو سبق سکھانے کا اب بہترین موقع آیا ہے۔ ایک پتھر سے دو پرندے نشانہ کے مصداق‘ عوام کو ایک ووٹ سے ان دو جماعتوں کو نشانہ بنانے کا سنہرا موقع ہاتھ آیا ہے۔ میری‘ عوام سے خواہش ہے کہ وہ‘ ٹی آر ایس کو ووٹ دے کر ان جماعتوں کو تلنگانہ سے باہر کردیں۔ کے ٹی آر نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چندرشیکھر رائو ایک بار پھر ریاست کے چیف منسٹر بن جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے نوجوانوں بالخصوص بیروزگار نوجوانوں کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ حکومت نے پہلے ہی 90ہزار جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔
حکومت پر چند اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کو تنقید کا حق حاصل ہے۔ تاہم بدقسمتی سے کانگریس پارٹی نے جو ریاست کی اہم اپوزیشن جماعت ہے‘ حکومت کو نشانہ بنانے میں ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔

جواب چھوڑیں