حلیف چاہیں تو میں وزیراعظم بنوں گا۔مودی حکومت نے گھٹن والی آئیڈیالوجی عوام پر مسلط کی: راہول گاندھی

کانگریس صدر راہول گاندھی نے جمعہ کے دن کہا کہ حلیف چاہیں تو وہ وزیراعظم بنیں گے لیکن پہلا قدم تمام جماعتوں کو متحد کرنا اور بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 2 مرحلوں کا عمل ہے۔ وزیراعظم کون بنے گا یہ مرحلہ دوم میں آتا ہے۔ کانگریس صدر نے وضاحت کی کہ ہم نے حلیفوں سے بات کی ہے اور طے کیا ہے کہ یہ 2 مرحلوں کا عمل ہے۔ پہلا متحد ہوکر بی جے پی کو شکست دینا ہے اور دوسرا الیکشن کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ کیا کیا جاسکتا ہے۔ ان کے وزیراعظم بننے کے بارے میں پھر پوچھنے پر راہول گاندھی نے کہا حلیف چاہیں تو میں یقینا وزیراعظم بنوں گا۔ کانگریس صدر نے جو ایچ ٹی لیڈرشپ سمٹ سے خطاب کررہے تھے‘ کئی امور پر سوالات کے جواب دیئے۔ راہول نے کہا کہ وہ کئی سال سے مندر‘ گردوارہ اور مسجد جاتے رہے ہیں لیکن ان کے مندر درشن کو اچانک شہرت دی جانے لگی ہے۔ میرے خیال میں بی جے پی کو یہ پسند نہیں۔ اس سے وہ بھڑکتی ہے۔ بی جے پی کے خیال میں صرف وہی مندر جاسکتی ہے۔ راہول نے کہا ہ انہوں نے اپنی چمڑی موٹی کرلی ہے۔ وہ تنقید کو سمجھ سکتے ہیں اور اس سے وہ پریشان نہیں۔ ان کا جواب سامنے والے کی بات سننا ہے۔ قیادت‘ دھیرے دھیرے آنے والی تبدیلی ہے۔ وہ وہ شے ہے جو ہمیشہ بدلتی رہتی ہے اور آپ کو اس سے سیکھنا ہے۔ اب میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سننے لگا ہوں اور سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہندوستانیوں کو خانوں میں نہیں دیکھتے۔ ان کے خیال میں ہر ہندوستانی ‘ حصہ دار ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی‘ بی جے پی اور اس کی نظریاتی سرپرست آر ایس ایس کے تعلق سے راہول گاندھی نے کہا کہ گھٹن والی آئیڈیالوجی 120 کروڑ ہندوستانیوں پر مسلط کی جارہی ہے۔ بی جے پی سے لڑنے والا آئیڈیالوجیکل سنٹر(نظریاتی مرکز) صرف کانگریس ہے۔ ان کے قائدانہ انداز اور ان کی ماں کے انداز قیادت میں فرق کے بارے میں پوچھنے پر کانگریس صدر نے کہا کہ میں نے اپنی ماں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے مجھے صبر کرنا سکھایا۔ بعض وقت میں ان سے کہا کرتا تھا کہ آپ میں صبر کا مادہ بہت زیادہ ہے۔ اب میں اپنی ماں کی طرح لوگوں کی بات تفصیل سے سننے لگا ہوں۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا ان کی زندگی میں کوئی خاص ہے‘ مسکراکر راہول نے جواب دیا کہ ان کی زندگی میں کئی لوگ اہم ہیں جیسے ان کی ماں اور بہن۔ آئی اے این ایس کے بموجب کانگریس صدر راہول گاندھی نے جمعہ کے دن نریندر مودی حکومت پر جم کر تنقید کی کہ اس نے ہندوستانیوں سے جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ان پر دم گھٹنے والی آئیڈیالوجی مسلط کررہی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اگلے لوک سبھا الیکشن کے لئے مایاوتی کی بی ایس پی سے اتحاد ہوکر رہے گا۔ انہوں نے وزیراعظم بننے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ نئی دہلی میں ہندوستان ٹائمس لیڈرشپ سمٹ میں کلیدی خطبہ دینے کے بعد انٹر ایکٹیو سیشن میں حصہ لیتے ہوئے راہول نے مودی حکومت کو ہزاروں کسانوں کی خودکشی‘ معیشت میں گراوٹ اور ملک کا بینکنگ نظام ٹھپ پڑجانے کے لئے موردِ الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ روپیہ لڑکھڑارہا ہے‘ اسٹاک مارکٹ ڈھیر ہوچکی ہے۔ 12 لاکھ کروڑ کا قرض ڈوب چکا ہے اور بے روزگاری 20 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ راہول نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی۔ آر ایس ایس ‘ رگھورام راجن اور امرتیہ سین جیسے مفکرین کو پسند نہیں کرتیں۔ انہوں نے مودی کو للکارا کہ وہ تنقید گوارا کریں۔ مودی حکومت‘ ہر چیز میں اجارہ داری چاہتی ہے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش اسمبلی الیکشن کے لئے کانگریس سے اتحاد سے مایاوتی کے انکار پر راہول نے کہا کہ اس سے 2 ریاستوں میں ان کی پارٹی کے امکانات متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کو ڈھیر ساری نشستیں مل جائیں گی۔ انہوں نے وزیراعظم بننے پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آج جل رہا ہے جبکہ حکومت صرف میک اِن انڈیا اور کلین انڈیا جیسے نعرے لگارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے مندر جانے کا ہندوتوا سے کوئی لینا دینا نہیں۔

جواب چھوڑیں