شام کو میزائل سسٹم کی فراہمی غیر ضروری جارحیت ہے: امریکی جنرل

امریکہ کی ایک اہم عسکری شخصیت نے روس کی جانب سے شام میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے S-300 میزائل سسٹم کی تنصیب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر ضروری جارحیت اور شام میں روسی فوجی طیارے کے مار گرائے جانے پر ایک غیر متاثر جواب ہے۔ مشرق وسطی میں امریکی افواج کے نگراں جنرل جوزف ووٹیل جمعرات کے روز امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے مذکورہ اقدام کا مقصد یہ نظر آ رہا ہے کہ شام میں ایرانی ملیشیاؤں اور بشار کی فوج کی “وحشیانہ سرگرمیوں” کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد کی جائے۔ ماسکو نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اْس نے S-300 میزائل نظام شامی حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔ اس سے قبل وہ یہ الزام عائد کر چکا تھا کہ ستمبر میں بشار الاسد کی فوج کے ہاتھوں ایک روسی فوجی طیارے کے گرائے جانے کا بالواسطہ سبب اسرائیل ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے توانائی کے وزیر یوفال اشٹائنٹز جو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے رکن بھی ہیں، انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ کہ S-300 سسٹم کی شام میں تنصیب “ہمارے لیے ایک مسئلہ ہے”۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “یہ امریکیوں کے لیے بھی (مسئلہ) ہو سکتا ہے۔ یہ سسٹم یقینا ہمارے لیے امور کو مشکل تر بنا دے گا اور اس کے حل تک پہنچنا ضروری ہے”۔ تاہم اسرائیلی وزیر نے واضح کیا کہ S-300 سسٹم کی خصوصی ٹکنالوجی گزری دہائیوں کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ اسرائیل شام میں ایران کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گا اور اس سسٹم سے سامنے آنے والے چیلنجوں پر قابو پا لے گا۔ دوسری جانب جنرل ووٹیل کا کہنا ہے کہ امریکی فوج S-300 سسٹم کی صلاحیت سے واقف ہے۔ امریکی جنرل کے مطابق شام میں ایران کی سرگرمیوں کے حوالے سے خطّے کے ممالک کی تشویش جواز رکھتی ہے۔ جنرل ووٹیل کا کہنا تھا کہ “ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مہلک صلاحیت شام منتقل کر رہے ہیں جو خطّے میں پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ ہے”۔

جواب چھوڑیں