صہیب الیاسی ‘ بیوی کے قتل کیس میں بری

 دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے دن سابق ٹی وی اینکر اور پروڈیوسر صہیب الیاسی کو اپنی بیوی کے قتل کیس میں بری کردیا۔ جسٹس ایس مرلیدھر اور جسٹس ونود گوئل نے الیاسی کی اپیل قبول کرلی جس میں اس نے 18 سال قبل اپنی بیوی کی ہلاکت پر عمر قید کی سزا کو چیلنج کیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ اپیل قبول کی جاتی ہے۔ الیاسی کی لڑکی عالیہ نے جو فیصلہ سنائے جانے کے وقت موجود تھی‘ خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے اپنے باپ پر ہمیشہ بھروسہ رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے بڑی مصیبت جھیلی ہے لیکن مجھے اپنے باپ پر پورا بھروسہ ہے۔ تحت کی عدالت نے 20 دسمبر 2017 کو صہیب الیاسی کو سزا سنائی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ صہیب نے قتل کرکے اسے خودکشی کی شکل دی۔ بیوی کو چھرا گھونپنے کے لئے اسے سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ صہیب‘ ٹی وی کرائم شو انڈیاس موسٹ وانٹیڈ کے ذریعہ مشہور ہوا تھا۔ ہائی کورٹ نے 20 اپریل کو عبوری ضمانت دی تھی لیکن 14 مئی کو اس میں توسیع سے انکار کردیا تھا۔ وہ بعدازاں سپریم کورٹ سے رجوع ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی عبوری ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔ وکیل راجیو موہن کے ذریعہ داخل اپیل میں صہیب الیاسی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے واقعہ کے 3ماہ تک کوئی مواد اکٹھا نہیں کیا اور اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ صہیب نے تحقیقاتی ایجنسی کو گمراہ کیا۔ 11 جنوری 2000 کو انجو کو اس کے مشرقی دہلی والے مکان سے ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں اس نے دم توڑدیا۔

جواب چھوڑیں