علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصاویر‘ تحقیقات کا حکم

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یونیورسٹی میں ایک تصویری نمائش میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصاویر کیسے رکھی گئیں۔ مئی میں طلبا یونین کے دفتر میں جناح کی تصویر پر بڑا تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ یونیورسٹی حکام نے نمائش سے تصویریں ہٹادیں اور لائبریرین کو جو نمائش کا کیوریٹر ہے‘ نوٹس وجہ نمائی جاری کی۔ ایک عہدیدار نے جمعہ کے دن یہ بات بتائی۔ اے ایم یو میں گاندھی جینتی تقاریب کے تحت ایک ہفتہ طویل تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ نمائش کا مرکزی خیال مہاتما گاندھی کی حیات تھا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ حلقہ علی گڑھ ستیش گوتم نے جمعرات کے دن مطالبہ کیا تھا کہ بعض گروپ فوٹوز ہٹادیئے جائیں جن میں مہاتما گاندھی کو بانی پاکستان کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترجمان شافع قدوائی نے جمعہ کے دن بتایا کہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے کہ یہ تصاویر‘ نمائش کا حصہ کیسے بنیں۔ لائبریرین کو جمعرات کے دن نوٹس وجہ نمائی جاری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی حکام ایسے معاملہ میں بے شک کوئی تنازعہ نہیں چاہتے۔ کیمپس میں امن ہے اور ہماری پوری توجہ تعلیمی شیڈول پر مرکوز ہے۔ اے ایم یو نے نمائش سے 2 تصویریں ہٹادیں ۔ ایک تصویر میں گاندھی اور جناح‘ سردار پٹیل کے ساتھ موجود ہیں۔

جواب چھوڑیں