ملک کی ترقی کیلئے فعال تعلیمی اور حفظان صحت نظام ضروری:ایم وینکیا نائیڈو

نائب صدر جمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے فعال تعلیمی اور حفظان صحت نظام کا ہونا ضروری ہے۔ آج ہائی ٹیکس (حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر) میں تبدیلی اعضائے رئیسہ سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ڈاکٹرس اور پیشہ طب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس پیشہ کے وقار کو برقرار رکھنا ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے اس لئے ضروری ہے کہ مریضوں کی خدمت‘ کمیشن کے بجائے مشن کے طورپر انجام دی جانی چاہیئے۔ وینکیا نائیڈو نے اعتراف کیا کہ ہندوستان میں صحت عامہ کی سہولتوں کا فقدان ہے‘ عوام کو ہیلت انشورنس کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ملک کی اتنی بڑی آبادی کی صحت کی نگہداشت کیلئے ڈاکٹرس کی قلت ہے۔ ملک بھر میں صرف 6.5لاکھ ڈاکٹرس ہیں۔ ہر دس ہزار ا فراد کیلئے جہاں 20ڈاکٹرس کی ضرورت رہے گی وہیں ہندوستان میں صرف 6ڈاکٹرس دستیاب ہیں۔ ملک کے عوام کی صحت کی نگہداشت کو یقینی بنانے کیلئے طبی عملہ کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے اس لئے مرکزی حکومت کی جانب سے2023تک 189نئے میڈیکل کالجس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اعضائے رئیسہ کے عطیہ کا رجحان نہیں کے برابر ہے۔ عوام میں اعضائے رئیسہ کے عطیہ کی اہمیت اور معلومات کا فقدان ہے جس کو دور کرنے کیلئے شعور بیدار کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے غیر سیاسی فلاحی تنظیموں کو عوام میں اعضائے رئیسہ کے عطیہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور شعور بیدار کرنے کیلئے آگے آنے کا مشورہ دیا۔ اس کانفرنس کے دوران اعضائے رئیسہ کی پیوند کاری اور جدید ٹکنالوجی کے موضوع پر تفصیلی طورپر غور وخوض کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی وزیر ریونیو محمد محمود علی اور دیگر موجود تھے۔

جواب چھوڑیں