ڈاکٹر مکویگے اور نادیہ مراد کو نوبل امن انعام

 کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مکویگے اور یزیدی مہم جو نادیہ مراد کو جمعہ کے دن نوبل امن انعام برائے 2018 حاصل ہوا۔ انہیں دنیا بھر میں جنگوں کے دوران جنسی تشدد سے لڑنے کے لئے یہ انعام مل رہا ہے۔ نوبل کمیٹی کی خاتون سربراہ بی آر اینڈرسن نے اوسلو میں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ پرامن دنیا اسی وقت ممکن ہے جب خواتین ‘ ان کے بنیادی حقوق اور سلامتی کو تسلیم کیا جائے اور جنگوں میں ان کا تحفظ ہو۔ 63 سالہ ڈاکٹر مکویگے نے جنگ زدہ مشرقی جمہوریہ کانگو میں جنسی تشدد کا شکار خواتین کی بڑی مدد کی ہے۔ ان کی 20 سالہ خدمات کے اعتراف میں انہیں یہ اعلیٰ ترین انعام دیا جارہا ہے۔ وہ ڈاکٹر میراکل (کرشمہ) کہلاتے ہیں۔ 25سالہ نادیہ مراد ‘ عراقی ہیں اور یزیدی فرقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ 2014 میں اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں نے ان کا اغوا کرلیا تھا۔ وہ 3 ماہ تک جنسی غلام بنی رہی تھیں اور بعدازاں بچ نکلی تھیں۔ ناروے کی نوبل کمیٹی نے کہا کہ ڈینس مکویگے اور نادیہ مراد نے جنگی جرائم سے بہادری سے لڑنے میں خود اپنی سلامتی کو جوکھم میں ڈالا ۔ نوبل امن انعام ‘ اوسلو میں 10 دسمبر کو دیا جائے گا۔ سویڈن کی مخیر شخصیت اور سائنسداں الفریڈ نوبل نے یہ پرائز قائم کیا تھا۔ 1896 میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔

جواب چھوڑیں