ہماری معیشت کو انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے: سعد حریری

لبنان میں نامزد وزیراعظم سعد حریری نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ 7 سے 10 روز کے اندر نئی حکومت کی تشکیل عمل میں آ جائے گی۔ انہوں باور کرایا کہ ملک کی اقتصادی صورت حال مزید تاخیر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ رواں سال مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے سیاسی اختلافات نے قومی یک جہتی کی حکومت کی تشکیل کو معطّل کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں لبنان میں اندیشے پیدا ہو گئے ہیں جو دنیا بھر میں عمومی قرضوں کی بلند ترین شرح کے حامل ممالک میں سے ہے۔ جمعرات کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں حریری نے واضح کیا کہ “لبنانی جماعتوں کے بطور ہم سب پر لازم ہے کہ لبنان کے تحفظ کے واسطے کام کریں اور امن و استحکام تک پہنچنے کے لیے ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ معیشت انتہائی مشکل پوزیشن میں ہے۔ اسی واسطے میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہوں”۔ حریری کے مطابق انہوں نے لبنانی صدر کے ساتھ اس صورت حال سے نکلنے کے حلوں پر بات چیت کی ہے اور ہفتہ دس دن کے اندر حکومت تشکیل پا جائے گی۔ نامزد وزیراعظم کا کہنا تھا کہ “حکومت بنانے کے لیے سب کو قربانی دینا ہو گی”۔ حریری نے ان تبصروں کو یکسر مسترد کر دیا کہ علاقائی اور غیر ملکی دباؤ کے باعث حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ لبنانی صدر میشیل عون سے ملاقات کے بعد ٹیلی وڑن بیان میں سعد حریری نے بتایا کہ “ہم اقتصادی صورت حال کے سبب حکومت کی تشکیل میں تیزی لانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ فضا مثبت ہے اور صدر عون کے ساتھ جلد ہی دوسری ملاقات ہو گی”۔ دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری چہارشنبہ کویہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے “امید کی کرن” پائی جا رہی ہے۔ لبنان میں آخری نگراں حکومت نے مئی میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے کام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، تاہم ملک کو ایک مستحکم حکومت کی ضرورت ہے جو لبنان کے قرضوں کے حوالے سے مطلوبہ اصلاحات پر عمل درآمد کرے۔

جواب چھوڑیں