ہندوستان اور روس نے امریکی تحدیدات کی دھمکیاں نظرانداز کردیں۔40ہزار کروڑ کی مزائل معاملت پر دستخط

تحدیدات عائد کرنے کی امریکی دھمکیاں نظرانداز کرتے ہوئے ہندوستان اور روس نے جمعہ کے دن ایس 400 ٹریمپف لانگ رینج سرفیس ٹو ایر مزائل سسٹم کی معاملت کو قطعیت دے دی۔ اس سے ہندوستانی فضائیہ کی طاقت قابل لحاظ حد تک بڑھے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور صدر روس ولادیمیر پوٹین کی 19 ویں ہند۔ روس سالانہ باہمی چوٹی ملاقات میں 5.4 بلین امریکی ڈالر (لگ بھگ 40 ہزار کروڑ روپے) کی معاملت طے پائی۔ دونوں قائدین نے حالانکہ اپنے مشترکہ صحافتی بیان میں اس کا تذکرہ نہیں کیا‘ شاید معاملہ کی حساس نوعیت کے مدنظر ایسا کیا گیا کیونکہ امریکہ‘ ہندوستان پرزور دے رہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ یہ معاملت نہ کرے۔ قبل ازیں حیدرآباد ہاؤز میں دونوں قائدین کی موجودگی میں جو 8 معاہدے طے پائے ان میں مزائل ٹھیکہ شامل نہیں تھا۔ دونوں قائدین کی بات چیت کے فوری بعد جو مشترکہ صحافتی بیان جاری ہوا اس سے مزائل معاملت کا اشارہ ملا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فریقین ایس 400 لانگ رینج سرفیس ٹو ایر مزائل سسٹم کی ہندوستان کو سربراہی کے ٹھیکہ کی تکمیل کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ میڈیا سے خطاب میں مودی نے کہا کہ ہند۔ روس تعلقات خاص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمہ قطبی اور ہمہ سطحی دنیا کے لئے کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔ دونوںممالک افغانستان ‘ ہند۔ بحرالکاہل خطہ اور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) ‘ برکس ‘ جی 20 اور اسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنس (آسیان) میں بھی مل جل کر کام کریں گے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون کریں گے۔ صدر روس نے کہا کہ ہندوستان نے روس کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ روس ‘ ہندوستان کی ترقی کے سفر کا ہمیشہ حصہ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب وزیراعظم نریندر مودی اور صدر روس ولادیمیر پوٹین کی بات چیت کے بعد 8 معاہدے طے پائے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤز میں 5 بلین ایس 400 ایر ڈیفنس سسٹم معاہدہ پر بھی دستخط کئے۔مودی نے کہا کہ صدر روس پوٹین سے بات چیت نے باہمی اسٹراٹیجک پارٹنرشپ کو نئی سمت عطا کی ہے ۔ خلا‘ نیوکلیر توانائی اور ریلویز کے شعبوں میں ہند۔ روس معاہدے ہوئے۔ یو این آئی کے بموجب ہندوستان اور روس نے جمعہ کے دن عہد کیا کہ باہمی تعلقات کو آگے لے جایا جائے گا ۔مشترکہ بیان میں ہند۔ روس اسٹراٹیجک پارٹنرشپ پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے کہا کہ یہ شراکت داری عالمی امن و استحکام کے لئے اہم عنصر ہے۔ دونوںممالک نے ایک دوسرے کے رول کی ستائش کی۔ صدر روس نے یہ کہہ کر عملاً حیرت میں ڈال دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات روسی ہتھیاروں کی سربراہی سے کہیں آگے ہیں۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کی تمام اشکال کی مذمت کی۔ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر پھر زور دیا اور کہا کہ اسے مزید موثربنایا جائے۔

جواب چھوڑیں