اعتبارچوک کی مسجد میں متنازعہ بیان کے بعد کشیدگی

میرچوک پولیس اسٹیشن کے حدودمیںاعتبارچوک علاقہ میں آج رات دو فرقوں کے درمیان مذہبی منافرت مسئلہ پر زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا اور علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ تفصیلات کے مطابق آج رات نمازعشاء کے بعد قدیم سورج ٹاکیز اعتبارچوک کے قریب واقع مسجد ابوبکر صدیقؓ میں اہل حدیث کے ایک مبلغ نے اپنی تقریر میں مبینہ طور پر دوسرے فرقہ کی دل آزاری کی۔ اطلاع ملنے پر دوسرے فرقہ کے ہزاروں افراد جمع ہوگئے اور اس مبلغ کے خلاف احتجاج اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ حالات کو بگڑتا دیکھ کر ڈی سی پی ساؤتھ زون عنبر کشور جھا نے ہلکی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حالات پر قابو پالیا۔ دوسری جانب یاقوت پورہ بڑا بازار سے دوسرے فرقہ کے افراد سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوگئے۔ احتجاجیوں نے مبینہ طورپر مسجد پر بھی سنگ باری کی۔اطلاع ملتے ہی کمشنر پولیس انجنی کمار اور ایڈیشنل کمشنر پولیس ایل ایچ چوہان بھی مقام واقعہ پر پہنچ گئے اور دونوں فرقوں کے ذمہ داروں کو سمجھاتے ہوئے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کی۔ رات ایک بجے کے بعد بھی مقام واقعہ پر کشیدگی برقرار تھی۔ فی الحال حالات قابومیں ہیں۔ پولیس نے مبلغ کو پولیس اسٹیشن منتقل کیاتھا۔بعدازاںانہیںدوبارہ مسجد لایاگیا۔مبلغ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ صرف حضورﷺ کی شان بیان کررہے تھے ۔انہوںنے کسی فرقہ کی دل آزاری نہیں کی۔مبلغ کوپولیس نے حراست میں لے لیاہے۔ان سے مزید پوچھ تاچھ جاری ہے ۔پولیس کے اعلیٰ عہدیداررات دیرگئے تک بھی دونوں فرقوںکے درمیان مصالحت کرانے اور ناراضگی دورکرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوںپر دھیان نہ دیں۔بتایا جاتاہے کہ سنگباری کے دوران اس علاقہ میں ٹھہری ہوئی چندبنڈیوں کوبھی نقصان پہنچا۔

جواب چھوڑیں