فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فورسس کی فائرنگ‘3 شہید

مشرقی غزہ پٹی میں اسرائیلی سرحد پر مظاہرہ کررہے ہزاروں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے ما بین ہوئے جھڑپ میں 3 فلسطینی شہریوں کی موت اور 376دیگر لوگ زخمی ہوگئے۔ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق غزہ وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرا نے نامہ نگاروں سے کہا کہ مشرقی غزہ شہر میں اسرائیلی فوج کے حملے میں تین فلسطینی شہریوں کی موت ہوگئی جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ حملے میں زخمی 192لوگوں کو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے جن میں سے 126لوگوں کو اسرائیلی فوج نے اپنی گولیوں سے نشانہ بنایا تھا۔مسٹر اشرف نے کہا کہ مرنے والوں میں دو طبی اسسٹنٹ اور دو صحافی شامل ہیں جن میں ایک خاتون تھی جو زخمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 30مارچ کواحتجاج کی شروعات ہوئی اور جسے ’گریٹ مارچ آف رٹرن‘ کا نام دیا گیا۔ اسرائیل کی فوج نے 197فلسطینی شہریوں کو ہلاک اور 21ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کو زخمی کردیا۔تصادم کی شروعات جمعہ کو اس وقت ہوئی جب ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اس مظاہرے میں شامل ہوئے۔عینی شاہدین مشرقی غزہ پٹی اور اسرائیلی سرحد کے نزدیک جمع ہوئے۔ مظاہرین نے ٹائروں میں آگ لگائی اور جھنڈوں کو لہرایا۔ یہی نہیں مظاہرین نے غزہ پٹی کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی فوج کے اسٹیشنوں پر پتھر بھی پھینکے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے مظاہرہ کررہی بھیڑپر آنسو گیس کے گولے، ربڑ کی گولیاں او رہتھیاروں سے بھی حملہ کیا۔مظاہرین نے سرحد پر باڑ کے تار کے کچھ حصوں کو کاٹ دیا، جس سے ان میں سے کچھ مظاہرین اسرائیل میں دراندازی میں کامیاب رہے۔ انہوں نے سرحد پار ٹائروں میں آگ لگائی اور واپس آگئے۔سیکورٹی حکام اور اسرائیل فوج نے بیان دیا جاری کرکے کہاکہ فلسطینی مظاہرین کے ذریعہ سرحد پر باڑ کے تار کے کچھ حصوں کو کاٹنے اور فوج پر دیسی ہتھ گولوں سے حملہ کرنے پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان پر دو میزائلوں سے حملہ کیا۔ بہرحال اس حملے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔اسلامک جہاد کے لیڈر خالد البشت نے نامہ نگاروں سے کہاکہ جب تک ہمیں کامیابی نہیں مل جاتی ہے اور ہم اپنے ہدف تک نہیں پہنچ جاتے، فلسطینی غزہ پٹی پر اپنے مظاہرہ کو جاری رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں