بی ایس پی۔ کانگریس عدم مفاہمت بڑا مسئلہ نہیں: پون کھیڑا

کانگریس نے اتوار کے دن کہا کہ اسمبلی الیکشن کے لئے بی ایس پی کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر مفاہمت نہ ہونے کا آئندہ سال کے لوک سبھا الیکشن سے قبل بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن کی کوششوں پر اثرنہیں پڑے گا۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے تاہم زوردے کرکہا کہ پارٹی قیادت نے ریاستی یونٹس کی رپورٹ پر انحصار کیا ہے۔ سمجھاجاتا ہے کہ کانگریس اور بی ایس پی کا اتحاد اس لئے نہیں ہوپایاکہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس بی ایس پی کو اتنی نشستیں دینے کو تیارنہیں تھی جتنا مایاوتی کی پارٹی کا مطالبہ تھا۔ چھتیس گڑھ ، مدھیہ پردیش میزورم ،راجستھان اور تلنگانہ میں اسمبلی الیکشن 12نومبر اور 7 دسمبر کے درمیان ہوگا۔ اسے 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کا سیمی فائنل ماناجارہا ہے۔ پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی 11 دسمبر کو ہوگی۔ پون کھیڑا نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ریاستی یونٹس کو زمینی صورتحال کی جانکاری مرکزی قیادت سے زیادہ ہوتی ہے۔ ریاستی یونٹس نے فیصلہ کیا اور مرکزی قیادت نے اسے قبول کرلیا۔ انہوں نے تاہم کہا کہ بی ایس پی کے ساتھ اتحاد نہ ہو پانے کو لوک سبھا الیکشن کے لئے مہاگٹھ بندھن کی تشکیل سے جوڑکر نہ دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی الجھن نہ ہوکہ مہاگٹھ بندھن ہوکر رہے گا۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے حال میں اعلان کیاتھا کہ وہ ریاستی اسمبلی الیکشن میں کانگریس سے ہاتھ نہیں ملائیں گی۔ مایاوتی کے اس اقدام کو 2019ء میں بی جے پی کے خلاف مہاگٹھ بندھن کی کوششوں کو دھکا ماناجارہا تھا۔ پون کھیڑا نے گورنر جموں وکشمیرستیہ پال ملک کے ان ریمارکس پر تنقید کی جن میں انہوں نے وادی کی خراب صورتحال کیلئے بی جے پی اور پی ڈی پی کو چھوڑکر دیگر جماعتوں کو موردِ الزام ٹہرایاتھا۔ پون کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت کے مقررہ گورنر اکثربھول جاتے ہیں کہ انہیں جانبدارانہ سیاست نہیں کرنی چاہئیے۔ بالخصوص کشمیر جیسی حساس ریاست میں جہاں گورنر کو سبھی کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔

جواب چھوڑیں