تجربہ گاہوں میں خواتین کی کمی نہیں :ہرش وردھن

ملک میں خاتون سائنس دانوں کی کم تعداد پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے تشویش کے اگلے دن یعنی اتوار کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر ہرش وردھن نے اتوار کو دعوی کیا کہ تجربہ گاہوں میں خاتون سائنس دانوں کی کمی نہیں ہے ۔رام ناتھ کووند نے ہفتہ کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت جاری کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کی تجربہ گاہوں میں خاتون سائنس دانوں کی کم تعداد پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ صدر جمہوریہ نے یہاں چار روزہ انڈیا انٹرنیشنل سائنس فیسٹیول(آئی آئی ایس ایف) کے رسمی افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ سی ایس آئی آر میں 3446 سائنس داں ہیں جن میں 632 یعنی تقریبا 18.3 فیصد خواتین ہیں۔ڈاکٹر ہرش وردھن نے صحافیوں سے کہا” آپ کسی بھی تجربہ گاہ میں چلے جائیں وہاں آپ کو کافی تعداد میں خاتون سائنسداں ملیں گی۔ضروری نہیں ہے کہ سی ایس آئی آر میں خواتین اور مرد سائنس دانوں کا تناسب برابر ہو۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ بچوں میں سائنس کے تئیں دلچسپی تو برابر پیدا ہو رہی ہے ۔ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔ خاندانی ذمہ داریوں کے وجہ سے خاتون سائنس دانوں کا کریئر ادھورا نہ رہنے کے لیے حکومت نے کئی اسکیمات شروع کی ہیں۔ شادی کے بعد خاتون سائنس داں ایک سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ سے عہدے پر کام شروع کر سکتی ہیں اس کے علاوہ نوجوان خاتون سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ کووند نے خالص سائنس میں کریئر کے پرکشش متبادل مہیا کرانے کے بارے میں بھی اپیل کی تھی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ حکومت کا مقصد خالص سائنس اور اپلائڈ سائنس کے درمیان تناسب رکھنا ہے ۔ اگر خالص سائنس میں زیادہ لوگ جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ سائنس کے فائدے لوگوں کو نہیں مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت آیا تھا کہ جب طالب علم انجینئرنگ کے بجائے کامرس کو زیادہ پسند کرتے تھے ۔ اب اس میں بھی تبدیلی آرہی ہے اور بچے واپس سائنس کی جانب رخ کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں