تلنگانہ میں معلق اسمبلی وجود میں آئے گی

عام آدمی پارٹی نے پیش قیاسی کی ہے کہ تلنگانہ میں منعقد شدنی انتخابات میں معلق اسمبلی وجود میں آئے گی اور کسی بھی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملے گی وہیں عام آدمی پارٹی نے جنوبی ہند کی ریاستوں میں دہلی طرز کی حکومت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ جنوبی ریاستوں کے عام آدمی پارٹی کے انچارج و دہلی کے رکن اسمبلی سومناتھ بھارتی نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں کے چندر شیکھر راؤ حکومت کے خلاف خاموش طریقہ سے لہر چل رہی ہے ۔ اس بار تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئیں گے ۔ اور یہ نتائج توقعات کے مطابق نہیں رہیں گے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی تنہا مقابلہ کررہی ہے اور اس جماعت نے کے سی آر کی جماعت کے خلاف بھی امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کرچکی ہے ۔ دوسری طرف کا نگریس، تلگودیشم اور ٹی جے ایس پر مشتمل عظیم اتحاد بھی انتخابات میں حصہ لے گا ۔ ان حالات میں ممکن ہے کہ تلنگانہ میں معلق اسمبلی وجود میں آئے گی۔ سومنا تھ بھارتی نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ تلنگانہ میں انتخابات پر اسرار اور بہت دلچسپ ہوں گے ہم یہی کہہ سکتے ہیں۔ بھارتی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں کے سی آر کو مخالف حکومت لہر کا سامنا ہے ۔ اس تعلق سے عوام، کچھ کہنے کے موقف میں نہیں ہے مگر خاموش انداز میں ٹی آر ایس حکومت کے خلاف لہر چل رہی ہے ۔ ہم عوام کے خیالات جاننے کے لئے منتظر ہیں۔ بھارتی نے پہلے کہا تھا کہ ان کی پارٹی عام آدمی پارٹی، تلنگانہ اسمبلی کی تمام119 نشستوں سے مقابلہ کرے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے6 ستمبر کو ریاستی اسمبلی تحلیل کردی تھی ۔ سومناتھ بھارتی نے کہا کہ ہم نے دہلی میں ایک مثالی حکومت کا ماڈل فراہم کردیا ہے جہاں سرکاری اسکولوں کا تعلیمی معیار، خانگی وکارپوریٹ مدارس کے معیار سے اونچا ہے ۔ اس دہلی میں دنیا کی بہترین طبی سہولتیں دستیاب کرائی گئی ہیں۔ تلنگانہ میں عام آدمی پارٹی کے مبصر پرینکا ککر نے کہا کہ ہم اس نئی ریاست کے اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی امیدواروں کی جانچ پڑتال کررہے ہیں۔ توقع ہے کہ پارٹی امیدواروں کی پہلی فہرست15؍ اکتوبر تک جاری کردی جائے گی ۔ تلنگانہ اسمبلی کے گذشتہ انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو0.18 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ پارٹی کے ریاستی کنوینر رامو گوڑ نے یہ بات بتائی۔

جواب چھوڑیں