جمال خشوگی کو سعودی قونصل خانہ میں قتل کردیاگیا۔ترکی کا دعویٰ۔ بے بنیاد الزام‘ ریاض کا ردعمل

ترکی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ واشنگٹن پوسٹ کے قلمکار جمال خشوگی کا قتل ہوا ہے۔ سعودی شہری خشوگی، استنبول میں منگل کو سعودی قونصل خانہ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ایک ترک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایاکہ ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ جمال خشوگی کا قونصل خانہ کے اندرقتل ہوا۔ سعودی عرب نے اس الزام کا تردید کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ صحافی کوڈھونڈ رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ اگر ہلاک کیاگیا ہے تو پھر یہ شیطانی حرکت ہوگی۔ ترک عہدیداروں نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے بات کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دعویٰ کی تائید میںکوئی ثبوت نہیں دیا ہے اور نہ یہ بتایا کہ صحافی کو کیسے ہلاک کیاگیا۔ جمال خشوگی، سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمدبن سلمان کے ہائی پروفائل ناقدرہے ہیں۔ ان کے ٹوئٹر فالوورس کی تعداد 16لاکھ سے زائد ہے۔ وہ واشنگٹن پوسٹ کے اوپینین سکشن کے لئے لکھتے رہے ہیں۔ منگل کے دن وہ سعودی قونصل خانہ گئے تھے تاکہ طلاق نامہ کو سرٹیفائی کراسکیں۔ سابقہ بیوی کو طلاق کی کاغذی کاروائی مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی ترک منگیتر سے شادی کرناچاہتے تھے۔ ترک منگیتر نے بتایاکہ اس نے سعودی قونصل خانہ کے باہر 11گھنٹے انتظار کیا لیکن جمال خشوگی باہر نہیں آئے۔ آئی اے این ایس کے بموجب سعودی عرب نے اتوار کے دن ان خبروں کی تردید کی کہ لاپتہ سعودی صحافی جمال خشوگی کا استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں قتل ہوا ہے۔ سرکاری سعودی پریس ایجنسی(ایس پی اے) کے جاری کردہ بیان میں ایک سفارتی عہدیدار کا حوالہ دیاگیا جس نے بین الاقوامی میڈیا کے ’بے بنیاد الزامات‘ کی واضح طور پر تردید کی۔ عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب اپنے تمام شہریوں کی حفاظت اور عافیت کا پابند ہے چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ اس کے حکام اس معاملہ میں کام کررہے ہیں۔ ہفتہ کی رات بین الاقوامی میڈیا میں ترک عہدیداروں کے حوالہ سے خبریں آئی تھیں کہ خشوگی کا استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں مارڈالاگیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے جس کے لئے خشوگی کام کرتے تھے 2 ذرائع کے حوالہ سے کہا کہ صحافی کی موت، سعودی قاتل دستہ کے ہاتھوں ہوئی۔ ترک نیوز ایجنسی اندولو کا بھی کہنا ہے کہ ترک حکام، خشوگی کے لاپتہ ہونے میں سعودی شہریوں کی 15 رکنی خصوصی ٹیم کے رول کی تحقیقات کررہے ہیں۔ العرب میڈیا گروپ کے سابق جنرل مینجر اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خشوگی 2اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ وہ 2017ء سے استنبول میں جلاوطنی کی زندگی بسرکررہے تھے۔ سعودی قونصل خانہ نے بعدازاں بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صحافی 2اکتوبر کو اس کے احاطہ سے چلاگیا۔ ترکی کی حکومت نے انقرہ میں سعودی سفیر کوطلب کیا اور خشوگی کے بارے میں پوچھا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ صحافی قونصل خانہ کے اندر ہی تھا۔

جواب چھوڑیں