مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں برادر عمران گرفتار

میر چوک پولیس نے 6 اکتوبر کی رات مسجد ابوبکر صدیق ؓ میں حضرت امام حسین ؓ کے خلاف دل آزار تقریر کرنے کے الزام میں برادر عمران کو گرفتار کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ برادر عمران کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ جہاں مجسٹریٹ نے انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا۔ قبل ازیں میرچوک پولیس نے برادر عمران کیخلاف ایف آئی آر نمبر189/2018 درج کرلیا ۔ اس ایف آئی آر کے تحت دفعات 295(9) اور 505(3) تعزیرات ہند کے تحت ایک مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ سید نجف علی شوکت صدر مرکزی انجمن ماتم کی شکایت پر میر چوک پولیس نے یہ کارروائی کی۔ اپنی تحریری شکایت میں نجف علی شوکت نے کہا کہ 6؍ اکتوبر کی رات مسجد ابوبکر صدیقؓ، یاقوت پورہ میں بعد نماز عشاء برادر عمران نے اپنی تقریر میں حضرت امام حسینؓ اور اہل بیت اطہار کی شان میں مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کئے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پھیل گئی۔ جس کے بعد انہوں نے ایڈیشنل کمشنر پولیس اور ڈی سی پی ساوتھ زون سے نمائندگی کی تھی اور شیعہ، سنی احتجاجیوں کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تھی ۔ انسپکٹر پولیس میر چوک کو تحریر کردہ درخواست میں نجف علی شوکت نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے اور مذکورہ مقرر کے خلاف قانونی کارروائی کی خواہش کی۔ سب انسپکٹر بی بھاسکر راؤ میر چوک پولیس اسٹیشن نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ واضح رہے کہ 6؍اکتوبر کی رات اس واقعہ کے بعد اعتبار چوک اور اطراف کے علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ شیعہ برادری کے لوگ کثیر تعداد میں مسجد ابوبکر صدیقؓ کے روبرو جمع ہوگئے تھے اور دل آزار تقریر کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس دوران سنی مسلمان بھی کثیر تعداد میں جمع ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی کمشنر پولیس جو شمس آباد ایر پورٹ پر تھے، سیدھے مقام واقعہ پر پہنچ گئے۔ ایڈیشنل کمشنر پولیس بی ایس چوہان ساوتھ زون ڈی سی پی عنبرکشور جھا نے پولیس کی بھاری جمعیت کو طلب کرلیا اور انہوں نے حالات پر جلد قابو پالیا۔ اس دوران برادر عمران کا کہنا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی سیرت پر تقریر کی تھی۔ انہوں نے کسی کی دل آزار ی نہیں کی ہے۔ اس دوران آج میر چوک کے علاقہ میں حالات پرامن رہے۔ پولیس کا سخت بندوبست دیکھا گیا۔

جواب چھوڑیں