ملک سے نکسل ازم کا 3 سال میں صفایاہوجائے گا: وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ

وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اتوار کے دن کہا کہ بایاں بازو کی انتہاپسندی کی برائی کا ملک سے لگ بھگ 3برس میں صفایاہوجائے گا۔ لکھنو میں ریاپڈ ایکشن فورس(آراے ایف) جوانوں سے خطاب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان کی (جوانوں) کاروائی تیز اور فوری ہونی چاہئیے لیکن بے تکی ؍اندھادھند کبھی نہ ہو۔ لکھنو کے سی آرپی ایف کیمپ میں انہوں نے کہا کہ ملک میں نکسل تشدد سے متاثرہ اضلاع کی تعداد گھٹ کر 10-12 رہ گئی ہے۔ سابق میں یہ تعداد 126 تھی۔ وہ دن دور نہیں، شاید 1-2 یا 3 سال میں بایاں بازو کی انتہاپسندی کا ملک سے صفایاہوجائے گا اور یہ سی آرپی ایف جوانوں اور ریاستی پولیس فورس کے عزم وحوصلہ ‘ بہادری اور سخت محنت کی بدولت ممکن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سی آرپی ایف نے جاریہ سال 131ماؤسٹ اور عسکریت پسند ہلاک کئے۔ اس نے 1278 ماؤسٹ ؍عسکریت پسند گرفتارکئے۔ 58 نے ہتھیارڈال دلے۔ فسادات اور احتجاج کے دوران آراے ایف کے رول کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے نیلی وردی والے ان جوانوں کو مشورہ دیا کہ ان کی کاروئی تیز ہو لیکن بے تکی نہ ہو۔ پوری پولیس فریس، مہذب یونٹس جیسی ہے۔ اسے کبھی ایسا کچھ نہیں کرناچاہئیے کہ اس پر ظالم کا لیبل لگے۔ راج ناتھ سنگھ کی اس بات کو اترپردیش کے دارالحکومت کے حالیہ واقعہ کے تناظر میں دیکھناچاہئیے جہاں ایک کانسٹبل نے ملٹی نیشنل کمپنی کے ایک نہتے ایگزیکیٹیو کو گولی مارکرہلاک کردیاتھا۔ آراے ایف بٹالین میں ایک ہزار سے کچھ زائد جوان ہوتے ہیں۔ یہ فورس اکتوبر1992ء میں بنی تھی اور اس کی 10 بٹالین ہیں جنہیں ملک کے مختلف حصوں میں تعینات کیاگیا ہے تاکہ وہ جلد سے جلد متاثرہ مقام پر پہنچ سکیں۔ آراے ایف بٹالینس حیدرآباد، احمدآباد، الہٰ آباد‘ ممبئی، دہلی، علی گڑھ ‘ کوئمبتور، جمشید پور، بھوپال اور میرٹھ میں موجود ہیں۔ اس کے 5نئے اڈوں میں جئے پور، وارانسی، منگلور ، حاجی پور(بہار) اور نوح(ہریانہ) شامل ہیں۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ سیکیوریٹی فورسیس ریاست میں شہری مجالس مقامی(یوایل بی) کے انتخابات کیلئے پوری طرح تیارہیں۔ جموں وکشمیر میں یہ الیکشن پیر سے چار مرحلوں میں منعقد ہوگا۔ سی آرپی ایف کی تقریب کے حاشیہ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں تشدد کے واقعات ماضی قریب میں گھٹے ہیں۔ ریاست کی مجموعی سیکیوریٹی صورتحال کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ سیکیوریٹی فورسیس چوکس ہیں۔ پاکستان اپنا رویہ نہیں بدل رہا ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ پڑوسی ملک کشمیر میں دراندازی اور عسکریت پسند سرگرمیوں کوہوا دے رہا ہے۔ شہری مجالس مقامی کے انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان راست مقابلہ ہوگا۔ دو بڑی علاقائی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بائیکاٹ کررہی ہیں۔ وہ دستور کی دفعہ 35Aکو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے سے خفا ہیں۔ آئی اے این ایس کے بموجب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اتوار کے دن کہا کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ ہے اور رہے گا۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے ہم سے نہیں چھین سکتی۔ انہوں نے ریاپڈ ایکشن فورس(آراے ایف) کے قیام کے 26برس مکمل ہونے پر کہا کہ کشمیر ہمارا ہے ہمارا تھا اور ہمارا رہے گا۔ دنیا کی کوئی کبھی طاقت اسے ہم سے نہیں چھین سکتی۔ آراے ایف‘ سنٹر ل ریزرو پولیس فورس(سی آرپی ایف ) کا خصوصی ونگ ہے جو فسادات اور نظم وضبط کے بڑے مسائل سے نمٹنے کے علاوہ راحت وبچاؤ سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے سی آرپی ایف کی ستائش کی ہے ۔ اس نے کشمیری عوام اور دہشت گردوں سے نمٹنے میں توازن برقرارر کھا ہے۔ انہوں نے فورس سے کہا کہ بعض کشمیری نوجوان ایسا کچھ کرتے ہیں جو نہیں نہیں کرناچاہئیے تو آپ ان سے ٹھیک طرح سے اس خیال کے ساتھ نمٹیں کہ یہ ہمارے ملک کے لوگ ہیں اور کچھ لوگ انہیں اکسارہے ہیں لیکن اگر کوئی شخص کسی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہوتو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو اس شخص کو ٹھکانے لگانے سے نہیں روک سکتی۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں عسکریت پسندوں کے واقعات گھٹتے ہیں۔ سیکیوریٹی فورسیس دہشت گردوں کو کرارا جواب دے رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں