ٹرمپ کے نامزد متنازعہ جج نے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد متنازعہ جج بریٹ کیویناگ نے جنسی ہراسگی کے الزامات سے متعلق کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مباحثوں اور احتجاج کے بعد آخر کار سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھالیا۔خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں بریٹ کیویناگ کی نامزدگی سے متعلق ووٹنگ ہوئی تھی جس میں ان کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ دیے گئے تھے۔تاہم ان کی حمایت میں زیادہ ووٹ ہونے کی وجہ سے امریکی سینیٹ نے بطور سپریم کورٹ جج ان کی تعیناتی کی توثیق کردی۔53 سالہ بریٹ کیویناگ نے ہفتہ کی شام ایک نجی تقریب میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثت سے حلف اٹھایا تھا، وہ تاحیات جج تعینات ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے جج جسٹس انتھونی کینڈی کی جگہ پر مںصب سنبھالیں گے۔بریٹ کیویناگ امریکی سپریم کورٹ کے 9 اعلیٰ جج صاحبان میں سے ایک ہیں۔گزشتہ روز سینیٹ میں ووٹنگ سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے لیکن بریٹ کیویناگ کی نامزدگی کے خلاف ایوان نمائندگان کی عمارت کے سامنے سیکڑوں مخالفین جن میں اکثریت خواتین کی تھی، انہوں نے احتجاج جاری رکھا تھا۔اس موقع پر مظاہرین نے ٹرمپ مخالف نعرے بازی کی اور ’ نومبر آرہا ہے ‘ (نومبر از کمنگ ) کے نعرے بھی بلند کیے تاہم پولیس نے چند مظاہرین کو گرفتار بھی کیا تھا۔اناح نے امریکی سپریم کورٹ میں جج کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ امریکی سینیٹ نے ہفتے کے دن اس قدامت پسند جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنے والے کیواناح کے سپریم کورٹ کا جج بننے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اب تک کی سب سے بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔ ہفتے کے دن سینیٹ میں پچاس ارکان نے ان کے حق میں جبکہ اڑتالیس نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ کیواناح کے خلاف امریکا بھر میں عوامی مظاہرے بھی کیے گئے۔امریکی سینیٹ نے کل سپریم کورٹ کے جج کے طور پر بریٹ کیونو کی نامزدگی کی توثیق کی، جس سے قبل اْن پر جنسی ہراساں کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے جس کے بعد کئی ہفتوں تک ان کے کردار اور مزاج پر تنازع جاری رہا۔اْن کے حق میں 50 جب کہ مخالفت میں 48 ووٹ پڑے۔تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ کیونو کے آنے سے، جنھیں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نامزد کیا تھا،4-5 سے ‘کنزرویٹو’ ججوں کو عدالت میں اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

جواب چھوڑیں