ٹی آر ایس امیدواروں کی انتخابی مہم کا ایک ماہ مکمل

حکمراں جماعت ٹی آر ایس امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کا ایک مہینہ مکمل کرلیا ہے۔ 6 ستمبر کو ریاستی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راو نے 119 کے منجملہ 105 اسمبلی حلقوں سے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا۔ دوسری جانب کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ہنوز پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم پارٹی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مہاکوٹمی (عظیم اتحاد) تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد، کو امید ہے کہ وہ، انتخابات میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے ریاست میں برسر اقتدار آئے گا۔ ٹی آر ایس کے تمام امیدوار، گزشتہ ایک ماہ سے اپنی انتخابی مہم زور و شور سے چلارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ، انتخابی جلسوں اور مختلف برادریوں کے ساتھ مسلسل ربط پیدا کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیلیں کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر نے ایک ماہ قبل ہی ضلع سدی پیٹ کے حسن آباد سے پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل ٹی آر ایس نے ریاست بھر میں اپنی انتخابی مہم منظم انداز میں چلائی۔ اس نے شیڈول کے اعلان سے قبل تین، اضلاع میں بڑے عوامی جلسوں کا اہتمام کیا۔ ان جلسوں کے اخراجات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کوئی بھی امیدوار، جب پرچہ نامزدگی داخل کرے گا تب سے اس کو انتخابی اخراجات کی یومیہ تفصیلات پیش کرنی ہوگی۔ مہاکوٹمی (عظیم اتحاد) نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر کسی قطعی نتیجہ پر پہنچنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اس سلسلہ میں مہاکوٹمی کے قائدین کے درمیان کئی مرحلوں کی بات چیت کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ کانگریس کے چند قائدین نے اس توقع کے ساتھ اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے کہ پارٹی ٹکٹ انہیں مل جائے گا۔ تمام اسمبلی حلقوں میں کانگریس اور ٹی ڈی پی کے ٹکٹ کے لئے کئی دعویدار ہیں۔ بی جے پی نے بھی ابھی تک پارٹی امیدواوں کی فہرست جاری نہیں کی ہے جبکہ موزوں امیدواروں کے انتخاب کے لئے پارٹی نے انتخابی کمیٹی تشکیل دی ہے پارٹی ہائی کمان پر امیدواروں کے ناموں کے اعلان پر زبردست دبائو بڑھتا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں