ہندوستان ‘روس سے کاموف ہیلی کاپٹرس خریدے گا۔ ہمیں امریکی تحدیدات کی پرواہ نہیں: جنرل بپن راوت

روس کے ساتھ S-400معاملت پر امریکی تحدیدات کے اندیشوں کے درمیان فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے اتوار کے دن زور دے کرکہا کہ ہندوستان کی آزادانہ پالیسی ہے۔ وہ ماسکو سے کاموف ہیلی کاپٹرس اور دیگر اسلحہ سسٹم بھی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ہندوستان اور روس نے جمعہ کے دن S-400 ایرڈیفینس سسٹم کی خریداری کیلئے کئی بلین ڈالر کی معاملت پر دستخط کئے تھے۔ امریکہ اس پر تحدیدات عائد کرسکتا ہے۔ امریکی تحدیدات کا مقصد روس ، ایران اور شمالی کوریا کو گھیرنا ہے۔ ہندوستان اور روس نے امریکہ کی وارننگ نظرانداز کرکے مزائل معاملت کی۔ جنرل راوت نے جو روس کے 6 روزہ دورہ سے ہفتہ کی رات ہندوستان لوٹے ہیں، کہا کہ روسی ہندوستانی فوج سے جڑنے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کاماننا ہے کہ ہندوستانی فوج طاقتور فوج ہے۔ فوجی سربراہ نئی دہلی میں جنرل کے وی کرشنا راؤ میموریل لکچر دے رہے تھے۔ جنرل راوت نے بتایاکہ ان کے دورۂ روس میں وہاں کی بحریہ کے ایک عہدیدار نے ان سے پوچھا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کو امریکی تحدیدات کی پرواہ نہیں۔ واشنگٹن دھمکی دے چکا ہے کہ ماسکو کے ساتھ معاملت کی گئی تو نئی دہلی پر بھی تحدیدات عائد ہوسکتی ہیں۔ جنرل راوت نے کہاکہ میں نے اس عہدیدار کو جواب دیا کہ ہم پرتحدیدات عائد ہونے دیجئیے لیکن ہم آزادانہ پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ جنرل راوت نے روس کی تشویش دورکرنے کی کوشش کی کہ ہندوستان امریکہ کے زیادہ قریب جارہا ہے۔ جنرل راوت نے کہا کہ روس کو مطمئن رہناچاہئیے کہ ہم کسی ٹکنالوجی کیلئے امریکہ سے جڑسکتے ہیں لیکن ہماری پالیسی آزادانہ ہے۔ جنرل راوت نے کہاکہ ہندوستان کاموف ہیلی کاپٹرس اور دیگر اسلحہ سسٹم وٹکنالوجی روس سے خریدنے کا خواہاں ہے۔ ہندوستان، ماسکو سے خلائی سسٹم اور ٹکنالوجی بھی حاصل کرناچاہتا ہے تاکہ اس کی خلائی صلاحیت بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے روسیوں سے کہا کہ آپ کے ملک کے ساتھ ہمارے تعاون کی کوئی حد نہیں۔ ہم یہی دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کے لئے کیا اچھا ہے۔ دفاعی نقطہ نظر سے ہمارے لئے کیااہم ہے۔

جواب چھوڑیں