ہیتی میں تباہ کن زلزلہ‘11ہلاک ‘بڑے پیمانہ پر املاک کو نقصان

ہیتی میں شدید زلزلے کے نتیجے میں کم ازکم11 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ 2010 کے تباہ کن زلزلے کے باعث اس ملک میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آج کے زلزلے کی شدت ریختر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان بھی پہنچا۔ زلزلے کا مرکز شمال مغربی شہر پور ڈے پے سے انیس کلو میٹر دور تھا۔حکام نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں اس قدرتی آفت کی وجہ سے ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں کا اندازہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔پور ڈے پے میں اب تک کم از کم سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ ملکی صدر نے اس زلزلے کے بعد اپنے ایک پیغام میں عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔2010 میں اس کیریبین ریاست میں آنے والے ایک شدید زلزلے کی تباہی کاریوں کے باعث دو لاکھ افراد ہلاک جبکہ تین لاکھ زخمی ہوئے تھے۔ اس زلزلے کے بعد سے ہیتی کے عوام ایسی قدرتی آفت کے دوبارہ شکار ہونے کے خدشات میں متبلا رہے ہیں۔اب کی بار املاک کو زیادہ نقصان ملک کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں پیش آیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ اس علاقہ کو ملک کا پسماندہ ترین علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے سبب رسائی بھی آسان نہیں ہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز پورت دے پئے کی بندرگاہ سے 20 کلو میٹر شمال مغرب میں تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس قدرتی آفت میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں متعدد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔یاد رہے کہ 2010ء میں ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے نزیک آنے والے شدید زلزلے میں 2 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 7 تھی۔ہیٹی کے صدر جووینل مواز نے ایک ٹوئیٹ میں عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پرسکون رہیں۔

جواب چھوڑیں