آسام میں این آرسی کے بعد جموں وکشمیر میں نیا خطرہ

جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکوریٹی فورسس کا آل آؤٹ آپریشن کارگر ثابت ہورہا ہے لیکن مرکزی وزارت ِ داخلہ کو حال میں ایک انٹلیجنس جانکاری ملی ہے کہ مشرقی ہند کے کئی نوجوان جنہیں پٹی پڑھائی گئی ہے‘ آسام میں این آر سی کے بعد جموں وکشمیر کا رخ کررہے ہیں۔ ان کا سرحدی ریاست میں دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہونا پریشان کن رجحان ہے۔ انٹلیجنس جانکاری ملنے پر آسام‘ بہار‘ جھارکھنڈ‘ اوڈویشہ اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشتبہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے یو این آئی کو یہ بات بتائی۔ انٹلیجنس ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس رجحان میں اسلامک اسٹیٹ کا ہاتھ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ تنظیم اپنی اشاعتوں دابق اور عمق کے ذریعہ نوجوانوں کو راغب کررہی ہیں۔ آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ (این آر سی ) کا عمل شروع ہونے کے بعد کئی غیرقانونی بنگلہ دیشی مائیگرنٹس ملک کے دیگر حصوں کا رخ کرچکے ہیں۔ وہ جموں وکشمیر پہنچ رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ جہادی گروپس روہنگیاؤں کا مسئلہ اٹھارہے ہیں اور انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حال میں کانپور سے قمرالزماں نامی شخص کی گرفتاری سے اس رجحان کا پتہ چلتا ہے ۔ وہ آسام کا رہنے والا ہے اور حزب المجاہدین کا رکن تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھا۔ اسلامک اسٹیٹ اور اس کی ذیلی تنظیموں نے نئے بھرتی ہونے والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شام کا سفر نہ کریں اور مقامی جہادی عناصرسے ربط پیدا کریں۔ انٹلیجنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ شاید اسی وجہ سے نئے بھرتی ہونے والے وادی کشمیر کا رخ کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں