غیر گجراتیوں پر حملے ، نتیش کمار کی روپانی سے بات چیت

چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج کہا کہ انہوں نے گجرات میں اپنے ہم منصب وجئے روپانی سے بات چیت کی ہے اور اس مغربی ریاست میں غیر گجراتی عوام بشمول بہاریوں پر حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ نتیش کمار نے 14 ماہ کی لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی کی بھی مذمت کی ، جس کے نتیجہ میں پرتشدد حملے کیے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ خاطیوں کو سزا دی جانی چاہیے ، لیکن ساری برادری کو ایک ہی رنگ میں نہیں رنگنا چاہیے ۔ نتیش کمار نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہماری حکومت اس واقعہ کے بارے میں جانتی ہے۔ میں نے کل چیف منسٹر گجرات سے بات چیت کی ۔ ہمارے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس بھی گجرات میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ربط میں ہیں۔ نتیش کمار نے کہا کہ اگر کسی نے جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اسے سزا دی جانی چاہیے ، لیکن ایک واقعہ کی بنا پر سب لوگوں کو ویسا ہی نہیں سمجھنا چاہیے اور کسی ریاست کے خلاف بغض نہیں رکھنا چاہیے ۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ گجرات کے ضلع سابر کنتھا میں 28 ستمبر کو غیرگجراتیوں بالخصوص بہار اور اترپردیش سے تعلق رکھنے والوں کو مقامی عوام نے حملوں کا نشانہ بنایا ۔ بہار کے ایک شہری کی جانب سے ایک لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی کے بعد یہ حملے کیے گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر منافرت انگیز پیامات کے بعد ان حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا۔ پولیس نے گجرات کے مختلف علاقوں سے 342 افراد کو غیرگجراتیوں پر حملوں کے سلسلہ میں گرفتار کرلیا ہے۔ اسی دوران جنتا دل یو کے ایک قائد نے صدر کانگریس راہول گاندھی کے نام 2 صفحات پر مشتمل اپنے کھلے مکتوب میںبہاریوں کے خلاف اس تشدد کے لیے اس قدیم جماعت کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ جنتا دل یو کے رکن کونسل و ترجمان نیرج کمار نے الزام لگایا کہ ’’آپ نے گجرات کے اپنے رکن اسمبلی الپیش ٹھاکر کو بہار میں قومی سکریٹریوں کا انچارج مقرر کیا ہے اور ان کی تنظیم گجرات شتریہ ٹھاکر سینا تارکِ وطن بہاریوں کو یہاں سے نکال باہر کررہی ہے۔ انہوں نے آر جے ڈی کے ساتھ کانگریس کے اتحاد پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک مجرم قرار دیے گئے شخص (لالو پرساد) کی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں جن کے لڑکے (تیجسوی یادو) پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔

جواب چھوڑیں