نجیب احمد کی گمشدگی‘ سی بی آئی کیس بند

 دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے دن سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن(سی بی آئی) کو جے این یو طالب علم نجیب احمد کا کیس بند کردینے کی رپورٹ داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ نجیب‘ یونیورسٹی سے لگ بھگ 2 سال قبل لاپتہ ہوگیا تھا۔ جسٹس ایس مرلیدھر اور جسٹس ونود گوئل پر مشتمل بنچ نے لاپتہ طالب علم کی ماں فاطمہ نفیس کی یہ درخواست خارج کردی کہ سی بی آئی کو ہٹاکر خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔ تحقیقات کی نگرانی عدالت کرے۔ بنچ نے کہا کہ نجیب کی ماں‘ تحت کی عدالت میں جو کہنا ہے کہہ سکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے 4 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ گذشتہ برس 16 مئی کو تحقیقات سنبھالنے والی سی بی آئی نے زائداز ایک سال کی تحقیقات کے بعد کہا تھا کہ اس نے کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اس کی رائے میں لاپتہ طالب علم کے خلاف کوئی جرم نہیں ہوا ہے۔ نجیب احمد 15 اکتوبر 2016 کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ماہی مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہوا۔ 14 اکتوبر کی رات اے بی وی پی طلبا سے اس کی ہاتھاپائی ہوئی تھی۔ نجیب کی ماں کے وکیلوں نے عدالت سے کہا کہ یہ سیاسی کیس ہے اور سی بی آئی اپنے آقاؤں کے دباؤ میں آگئی ہے۔ دہلی پولیس بھی نجیب کا پتہ نہیں چلاسکی۔ اس نے سی بی آئی تحقیقات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے پوری کوشش کی ہے۔

جواب چھوڑیں