کرپشن کاخاتمہ اور اچھی حکمرانی ہی موجودہ مسائل کا حل :عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پیش رو حکومتوں نے بے تحاشا قرض لے کر ملک کو سخت بحران میں ڈال دیا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان اقتصادی طور پر بدحال ہو گیا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ روزصحافیوں سے کہا کہ اس کے باوجود ملک میں ترقی کیامکانات ہیں اور جن پریشانیوں کا سامنا اس وقت پاکستان کو کرنا پڑ رہا ہے ان کا حل گڈ گورننس اور کرپشن کو ختم کرکے کیا جا سکتا ہے۔پاکستانی ریڈیو نے مسٹر خان کے حوالہ سے کہا’’موجودہ وقت کافی چیلنج بھرا ہے لیکن ملک اس بحران سے باہر نکل جائے گا اور ہماری حکومت تمام شعبوں میں بہتری سے متعلق پالیسیوں پر کام کر رہی ہے جن کا اثر حکومت کی تشکیل سے 100 دن کی مدت میں نظر آنے لگے گا‘‘۔بیرون ملک میں کالا دھن جمع کرنے والے پاکستانیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دس ہزار پاکستانی شہریوں کی بیرون ملک جائیداد کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور یہ پتہ لگایا جا رہا ہے کہ کیا ان کے پاس کرنسی کا کوئی جائز ذریعہ تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستانیوں نے دبئی میں 900 ارب روپے قیمت کی جائیداد خریدی ہے اور 300 افراد کو نوٹس دے کر ان کی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک دہائی پہلے پاکستان کا قرض چھ ہزار ارب روپے تھا جو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور کے آخر تک بڑھ کر 15 ہزار ارب روپے ہو گیا۔اس کے علاوہ غیر ملکی قرض بھی 60 ارب سے بڑھ کر 95 ارب ڈالر ہو گیا ہے اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو 2013 میں محض دو ارب ڈالر تھا وہ اب بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ان?وں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی حالت کافی بدتر ہے اور بین الاقوامی اداروں سے مالی مدد لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ کارنہیں ہے اور حکومت دوسرے اقدامات پر غور کر رہی ہے جن میں بین الاقوامی مانیٹری فنڈ سے بیل آؤٹ پیکج پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں