کشمیر میں بلدی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر مکمل ہڑتال

وادی کشمیر میں پیر کے روز بلدی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر مکمل اور غیرمعمولی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ۔ پیر کو وادی کے بیشتر حصوں بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر اور ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکیں سنسان نظر آئیں۔ جموں وکشمیر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں اور آٹو رکشے بھی سڑکوں سے غائب رہے۔ تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔ انتظامیہ کے دعوے کہ وادی میں کہیں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، کے برخلاف سری نگر کے پائین شہر میں پیر کو کرفیو جیسی پابندیاں نظر آئیں۔ریاستی پولیس کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ‘سری نگر میں کہیں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم احتیاطی طورپر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ‘۔ تاہم پائین شہر کی زمینی صورتحال پولیس کے دعوے کے برخلاف نظر آئی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے پائین شہر کے مختلف حصوں میں رابطہ سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کیا ہوا پایا۔مزاحمتی قیادت نے چند روز قبل جاری کئے گئے ایک بیان میں ریاست میں میونسپل اور پنچایتی انتخابات کے آغاز پر8 اکتوبر کو پورے جموں وکشمیر میں مکمل احتجاجی ہڑتال کی کال دی تھی۔ مزاحمتی قیادت نے 8 اکتوبرکو پورے جموں وکشمیر جبکہ بلدی انتخابات کی باقی تاریخوں یعنی10 اکتوبر، 13 اکتوبر اور16 اکتوبر کو جن جن علاقوں میں میونسپل انتخابات ہو رہے ہیں اس دن اُن اُن علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کرنے اور ان انتخابات سے عملاً مکمل طور لا تعلقی کا اظہار کرنے کی کال دے رکھی ہے ۔ مزاحمتی قائدین نے الزام لگایا ہے کہ ان انتخابات کی آڑ میں یہاں پہلے سے ہی لاکھوں کی تعداد میں موجود فورسز میں مزید اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کے اس طریقہ کار سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکمران طبقہ پہلے سے ہی موجود پولیس و فورسز میں اضافے کے ذریعے لوگوں کو طاقت اور تشدد کے بل پران انتخابات کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہڑتال کے پیش نظر وادی بھر میں پیر کو ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔ سری نگر اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار ‘کاروان امن’ بس سروس معطل کی گئی۔ اس کے علاوہ وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کہیں کلی تو کہیں جزوی طور پر منقطع رکھی گئیں۔کشمیر انتظامیہ نے علیحدگی پسند قائدین کو کسی بھی الیکشن مخالف ریلی یا جلوس کو منظم کرنے یا کسی بھی ایسے پروگرام کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کردیا ہے ۔ بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین مسٹر گیلانی کو گذشتہ قریب آٹھ برس سے مسلسل اپنے گھر میں نظربند رکھا گیا ہے ۔حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو اتوار کی صبح اپنی رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا ۔ یاسین ملک کو 2 اکتوبر کو اپنے گھر سے گرفتار کرکے پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں بند رکھا گیا۔ پیر کو وادی کے سبھی دس اضلاع سے مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سبھی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سیول لائنز اور بالائی شہر کے حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات نظر آئی۔شہر میں آٹو رکشے بھی سڑکوں سے غائب رہے جبکہ اکثر مصروف رہنے والے بلیوارڈ روڑ سنسان نظر آیا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہے ۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بتادیں کہ جموں وکشمیر میں چار مرحلوں پر مشتمل بلدی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کو 321 بلدی حلقوں پر پولنگ ہوئی۔ ریاست میں اس سے قبل سنہ 2005 میں بلدی انتخابات کرائے گئے تھے ۔ ان میں بیلٹ پیپر کا استعمال کرکے ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ سنہ 2005 میں بننے والے بلدی اداروں کی مدت سنہ 2010 میں ختم ہوئی تھی۔ ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی 8 اکتوبر سے شروع ہونے والے بلدی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی سرکار پہلے دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرے اور پھر وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی۔ قومی سطح کی دو جماعتوں سی پی آئی ایم اور بی ایس پی نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔

جواب چھوڑیں