گجراتیوں سے تشدد برپا نہ کرنے کی اپیل۔ ریاست کی صورتحال پُرامن۔ چیف منسٹر وجئے روپانی کا دعویٰ

چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی نے پیر کے دن عوام سے پرامن رہنے اور تشدد برپا نہ کرنے کی اپیل کی جبکہ ایک تنظیم کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ میں 20 ہزار سے زائد ہندی داں مائیگرنٹس گجرات چھوڑکر جاچکے ہیں۔ عصمت ریزی کے ایک واقعہ کے بعد ہندی بولنے والوں پر حملے ہوئے تھے۔ روپانی نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ ریاستی وزیر داخلہ پردیپ سنہہ جڈیجہ کا کہنا ہے کہ دوسری ریاستوں کے ورکرس کی سلامتی کے لئے صنعتی علاقوں میں زائد فورس تعینات کی گئی ہے۔ 28 ستمبر کو ضلع سابرکانٹھا میں ایک 14 ماہ کی لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی کے بعد سے 6 اضلاع میں جو زیادہ تر شمالی گجرات میں واقع ہیں‘ ہندی بولنے والوں کے خلاف تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عصمت ریزی کیس میں ایک بہاری ورکر کے پکڑے جانے کے بعد برپا تشدد کے سلسلہ میں 400 سے زائد افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ اتر بھارتیہ وکاس پریشد کے صدر مہیش سنگھ کشواہا کا دعویٰ ہے کہ اترپردیش‘ مدھیہ پردیش اور بہار کے 20 ہزار سے زائد لوگ گجرات چھوڑکر بھاگ چکے ہیں۔ ان ریاستوں کے 20 ہزار سے زائد مائیگرنٹس ڈر کر بھاگے ہیں کہ ریاست کے مختلف حصوں میں ہندی بولنے والوں پر حملے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی کرتوت کے لئے تمام غیرگجراتی ورکرس کو مجرم نہیں سمجھنا چاہئے۔ روپانی نے کہا کہ پولیس‘ حالات پر قابو پاچکی ہے۔ صورتحال قابو میں ہے اور گذشتہ 48 گھنٹوں میں ایک بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ چیف منسٹر نے راج کوٹ میں کہا کہ ہم نظم وضبط کی برقراری کے پابند ہیں ۔ گڑبڑہو تو لوگ پولیس کو فون کرسکتے ہیں۔ ہم سیکوریٹی فراہم کریں گے۔ مملکتی وزیر داخلہ جڈیجہ نے پیر کے دن گاندھی نگر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ مرکز کو جانکاری دے دی گئی ہے کہ حکومت گجرات نے صورتحال پر قابو پانے کیا اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندی بولنے والوں پر حملوں کے سلسلہ میں 431 افراد گرفتار ہوئے ہیں اور 56 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ کانگریس کا نام لئے بغیر جڈیجہ نے کہا کہ پتہ چلایا جارہا ہے کہ کہیں یہ ان کی تو سازش نہیں جو ریاست میں گذشتہ 22 برس سے اقتدار سے محروم ہیں۔ مائیگرنٹ ورکرس پر حملے قابل مذمت ہیں۔ چیف منسٹر نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ ہم حملے روکنے تمام ضروری اقدامات کریں۔ جڈیجہ نے کہا کہ میں بھی لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ سیاسی فائدہ کے لئے بھڑکانے والوں سے گمراہ نہ ہوں۔ مائیگرنٹس کی سیکوریٹی کے لئے صنعتی علاقوں میں زائد فورس لگائی گئی ہے۔ اس میں صرف مٹھی بھر لوگ ملوث ہیں۔ ہم نے زائد فورس لگادی ہے۔ ہم نے ایس آر پی کے پوائنٹس قائم کرنے اور پٹرولنگ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس ‘ ٹھاکر سینا کے کئی ارکان کو گرفتار کرچکی ہے۔ حملوں کے سلسلہ میں بعض ایف آئی آر میں ٹھاکر سینا کا نام لیا گیا ہے لیکن اس کے صدر اور کانگریس رکن اسمبلی الپیش ٹھاکر کا الزام ہے کہ ان کی برادری کے نوجوانوں کو پھنسایا جارہا ہے۔ احمدآباد سے لگ بھگ 100کیلو میٹر دور ہمت نگر ٹاؤن میں 14 ماہ کی لڑکی کی عصمت ریزی کے چند گھنٹوں میں پولیس نے بہار کے مزدور رویندر ساہو کو گرفتار کرلیا تھا۔ وہ مقامی سیرامک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔

جواب چھوڑیں