آل راؤنڈربنناچاہتا ہوں:دیپک چہار

سفید بال سے کھیلنے والی کرکٹ میں قومی ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم بنانے کامقصد رکھتے ہوئے ایک مشکل نشانہ کا انہوں نے خود اعتراف کرتے ہوئے ہندوستان کے نوجوان پیسر دیپک چہارچاہتے ہیں کہ وہ نئی گیند کے بولر کے ساتھ ساتھ بیاٹنگ کا بھی بہتر مظاہرہ کرنے کے بھی خواہاں ہیں ، میںبیاٹنگ بھی کرسکتاہوںاورمجھے ایشیاکپ میں ہردیک پانڈیاکے متبادل کی حیثیت سے شامل کیاگیا تھا لہذا میں بحیثیت بیاٹسمین خودکو ثابت کرناچاہتاہوں۔ میں ٹیم میں آل راؤنڈر بننا چاہتاہوں جو نئی گیند سے بولنگ بھی کرسکے اورمیںاسی انداز میںاپنی تربیت حاصل کرناچاہتاہوں ۔ اگر سلیکٹرس نئی گیند کا بولر چاہتے ہیں تو وہ میراانتخاب کرسکتے ہیں اوراگر وہ ایک آل راؤنڈر چاہتے ہیں تب بھی مجھے منتخب کرسکتے ہیں۔ چہار نے یہ بات وجئے ہزارے ٹرافی میاچ کے دوران حاشیہ پر کہی۔ راجستھان 50اوورس ڈومسٹک مقابلوں میں ایلیٹ گروپ سی میں شامل ہے۔ چہار نے کہاکہ وہ آئی پی ایل میں آئندہ سال زیادہ سے زیادہ بیاٹنگ کے مواقع تلاش کرناچاہتے ہیں تاکہ وہ خود کومزید مستحکم بناسکیں۔ میںنے ایک آئی پی ایل میاچ میں رن بنائے تھے جب دھونی نے مجھے ٹاپ آرڈر میںبھیجاتھا میں امید کرتاہوں کہ بیاٹ کے ساتھ مجھے خود کو ثابت کرنے کے لئے اورمواقع حاصل ہوں۔ ٹیم کو اس وقت توازن حاصل ہوتاہے جب فاسٹ بولر اچھی طرح سے بیاٹنگ کرسکے۔ یہ بہترین ہندوستانی ٹیم ہے اورآپ ہمیشہ ہی نمبرایک ٹیم رہناچاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں متبادل باتوں پر بھی دیکھناہوگا اوراسکواڈکی گہرائی پر بھی نظر رکھنی ہوگی اوریہ باقاعدہ میرے لئے ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے چہارکوایشیاکپ میں زخمی آل راونڈر پانڈیاکی جگہ کھلایاگیاتھا جس میں ہندوستان کوکامیابی ملی تھی۔ چہارنے افغانستان کے خلاف دھونی کی کپتانی میں غیر متاثرکن ڈبیوکیاتھا ان کے فیگرس4-0-37-1 تھے۔ قبل ازیں26 سالہ نے اپنا ٹوینٹی20ڈبیوانگلینڈ میں کیاتھا۔ انہیں اپنے چار اوورس میں43 رن پر ایک وکٹ حاصل ہوئی تھی۔ شروعات میرے لئے اچھی نہیں رہی لیکن میںامید کرتاہوںکہ ایک اورموقع مجھے ملے گا۔ یہ بات چہارنے کہی ۔

جواب چھوڑیں