بی این پی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کے لڑکے طارق رحمن کو عمرقید

بنگلہ دیش کے سابق مملکتی وزیر داخلہ لطف الزماں بابر اُن 19 افراد میں شامل ہیں جنہیں 2004 کے گرینیڈ حملے کیس میں سزائے موت سنائی گئی۔ ان حملوں میں 24 افراد ہلاک اور 500 افراد بشمول اس وقت کی قائد اپوزیشن شیخ حسینہ زخمی ہوئے تھے۔ 21 اگست 2004 کو عوامی لیگ کی ریالی پر حملہ ہوا تھا جس کا مقصد بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ کو نشانہ بنانا تھا۔ بنگلہ دیش کی اُس وقت کی وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کا لڑکا طارق رحمن اُن 18 افراد میں شامل ہے جنہیں عمرقید ہوئی ہے۔ سابق نائب وزیر تعلیم عبدالسلام پنٹو کو بھی سزائے موت سنائی گئی جبکہ بی این پی صدر بیگم خالدہ ضیاء کے سابق معتمد سیاسی حارث چودھری کو عمر قید ہوئی۔ وزیر قانون انیس الحق نے فوری ردعمل میں یو این آئی سے کہا کہ حکومت ‘ طارق رحمن اور حارث چودھری کو سزا بڑھانا چہے گی جنہیں عمرقید ہوئی ہے۔ انیس الحق نے الزام عائد کیا کہ طارق رحمن ‘ حملہ کا منصوبہ ساز تھا اور اسے سزائے موت ملنی چاہئے ۔ کڑے پہرہ میں ڈھاکہ کی اسپیڈی ٹرائل ٹریبونل 1 کے جج شاہد نورالدین نے دارالحکومت ڈھاکہ میں فیصلہ سنایا۔ زائد از 14 برس بعد 2 کیسس میں فیصلہ پرانے ڈھاکہ کی ناظم الدین روڈ پر واقع ٹریبونل نے صبح لگ بھگ 10:45 بجے سنایا۔ جج نورالدین نے کہا کہ جنہیں سزائے موت سنائی گئی انہیں مرنے تک سولی پر لٹکایا جائے گا۔ 3 ملزمین قیم (سکریٹری جنرل) جماعت اسلامی علی احسن محمد مجاہدٗ عسکریت پسند قائدین مفتی عبدالحنان اور شریف شاہدالاسلام عرف بپل کے نام کاٹ دیئے گئے کیونکہ انہیں دیگر کیسس میں سزائے موت دی جاچکی ہے۔ طارق رحمن ‘ عبدالحارث چودھری‘ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ مفضل حسین کیقباد کے علاوہ دیگر 15ملزمین مفرور ہیں۔ جن ملزمین کو آج عدالت لایا گیا تھا انہیں فیصلہ سنائے جانے کے بعد سخت سیکوریٹی میں واپس قاسم پور سنٹرل جیل پہنچادیا گیا جو ڈھاکہ کے مضافات میں ہے۔

جواب چھوڑیں