جنسی ہراسانی معاملات ۔ خواتین کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جائے: منیکا گاندھی

مرکزی وزیر برائے ترقی خواتین و اطفال نے کہا ہے کہ کسی بھی کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے کیوںکہ خواتین اکثر بولنے سے ڈرتی ہیں۔ ایک مرکزی وزیر و سابق ایڈیٹر ایم جے اکبر پر ان کے دورِ صحافت میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے دوران منیکا نے یہ ردّ ِ عمل ظاہر کیا ہے۔ منیکا گاندھی نے کل یہاں ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ اختیارات کے حامل مرد اکثر ایسا کرتے ہیں ۔ اس کا اطلاق میڈیا ، سیاست اور کمپنیوں کے سینئر عہدیداروں پر بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب خواتین نے بولنا شروع کردیا ہے تو ان کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ خواتین بولنے سے ڈرتی ہیں ، کیوںکہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ لوگ ان کا مذاق اڑائیں گے اور ان کے کردار پر شبہ کریںگے ، لیکن اب جب کہ وہ بول رہی ہیں تو ہمیں ہر الزام پر سنجیدگی سے کارروائی کرنی چاہیے ۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کل اس بات کا جواب دینے سے گریز کیا تھا کہ آیا حکومت مرکزی وزیر کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی ۔ ملک میں ’می ٹو‘ مہم شدت اختیار کرگئی ہے۔ تفریح اور میڈیا صنعت سے وابستہ کئی خواتین جنسی ہراسانی کے اپنے تجرباتی منظر عام پر لا رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں