رافیل فیصلہ سازی عمل کی تفصیلات طلب۔مہربند لفافہ 29 اکتوبر تک داخل کیا جائے ۔: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن مرکز کو ہدایت دی کہ رافیل فیصلہ سازی عمل کی تفصیلات مہربند لفافہ میں داخل کی جائیں۔ قیمت اور فنی جانکاری نہ دی جائے۔ حکومت نے اس معاملہ میں مفاد عامہ کی درخواستوں کو خارج کردینے کی گذارش کی اور انہیں سیاسی درخواستیں قراردیا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرقیادت بنچ نے کہا کہ عدالت ‘ مفاد عامہ کی 2 درخواستوں پر نوٹس جاری نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیصلہ سازی کے عمل کے جواز کے تعلق سے خود کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ بنچ نے جس میں جسٹس ایس کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف بھی شامل تھے‘ حکومت سے کہا کہ وہ یہ جانکاری 29 اکتوبر تک دے۔ عدالت نے وکلاء و نیت دھانڈا اور ایم ایل شرما کی درخواست مفاد عامہ کی سماعت اس کے 2 دن بعد مقرر کی۔ بنچ نے کہا کہ ہمیں رافیل طیارہ کی قیمت یا اس کی موزونیت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم صرف فیصلہ سازی عمل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ بنچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے پوچھا کہ فرض کیجئے ہم آپ سے (مرکز) فیصلہ سازی کے عمل کی تفصیلات صرف ججس کے لئے مانگیں تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا۔ کے کے وینوگوپال نے جواب دیا کہ یہ تفصیلات قومی سلامتی کے مفاد میں کسی کو بھی نہیں دکھائی جاسکتیں۔ بنچ نے اس پر ایک اور سوال کیا کہ اگر ہم آپ سے طیارہ کی فنی تفصیلات نہ مانگیں تو آپ کا کیا جواب ہوگا۔ 15 منٹ کی سماعت میں بنچ نے شرما‘ دھانڈا اور وینوگوپال تینوں کی بات سنی۔ وینوگوپال نے کہا کہ درخواستوں میں کوئی عوامی مفاد نہیں ہے۔ نہ تو ان کا غریبوں سے کوئی لینا دینا ہے۔ یہ درخواستیں مفاد عامہ کی نہیں بلکہ سیاسی مفاد کی درخواستیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں رافیل معاملت پر تلخ لڑائی لڑی جارہی ہے اور ایسی درخواستوں کو سماعت کے لئے قبول کیا جائے تو ان کا سیاسی استعمال ہوسکتا ہے۔ مزیدبرآں پالیسی فیصلوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔ بنچ نے کہا کہ وہ کوئی نوٹس نہیں جاری کررہی ہے وہ صرف اپنے اطمینان کے لئے جانکاری چاہتی ہے۔ رافیل معاملت 36 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لئے حکومت ہند اور حکومت فرانس کے درمیان ہوئی۔ یہ 2 انجن والا میڈیم ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جسے فرنچ ایرواسپیس کمپنی ڈسو ایویئشن بناتی ہے۔ ہندوستانی فضائیہ(انڈین ایرفورس) نے اگست 2007 میں 126لڑاکا طیارے خریدنے کی تجویز پیش کی تھی اور ٹنڈر جاری کیا تھا۔ اس کے بعد مختلف ایویئشن کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ بولی لگانے کے عمل میں حصہ لیں۔

جواب چھوڑیں