قومی تغذیہ مشن کو ترجیح دینے کی ضرورت ۔ہر سال ستمبر کو پوشن ماہ کے طور پر منانے کا فیصلہ: راجیو کمار

پوشن ابھیان جسے تغذیہ مشن بھی کہا جاتا ہے ، کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے نیتی آیوگ کے نائب صدرنشین راجیو کمار نے آج کہا کہ مختلف شعبوں میں تال میل سے ہندوستان کو نقصِ تغذیہ سے پاک بنانے کے نشانہ کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں کے درمیان تال میل کے سبب گذشتہ ماہ 25 کروڑ افراد پر رسائی ممکن ہوسکی ۔ ان وزارتوں نے بنیادی سطح پر استفادہ کنندگان کو مربوط کیا۔ انہوں نے پوشن ماہ کی اختتامی تقریب کے وقفوں کے دوران پی ٹی آئی کو بتایا پوشن ابھیان کو ہر چیز سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔ میرے خیال میں اسے ترجیح دیے بغیر کسی نشانہ کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر ایک کو تغذیہ کی فراہمی بہت بڑا چیلنج ہے ، کیوںکہ کسی بچہ کا تغذیہ سے محروم ہونا بہت بڑی بات ہے ۔ حکومت نے ہر سال ستمبر میں قومی ماہِ تغذیہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمار نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوشن ابھیان کی سب سے بڑی کامیابی اسے جن آندولن (عوامی تحریک) بنانا ہے۔ ہم گذشتہ 70 سال سے اس کے بارے میں بات کرتے رہے ، لیکن ہم اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام تھے ، کیوںکہ ہم ایک باہمی تال میل پر مبنی پروگرام کے طور پر اسے استعمال نہیں کررہے تھے ، اس کی وجہ سے مختلف وزارتوں میں تال میل پیدا کرنے میں مدد ملی ہے۔ دوسری کامیابی یہ ہے کہ ہم نے عوام اور خانگی شراکت داری کے ذریعہ ایک مثال پیش کی ہے۔ تیسری کامیابی یہ ہے کہ شعور بیداری میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی ماہِ تغذیہ کے دوران مختلف وزارتوں ، این جی اوز اور آنگن واڑی ورکرس کو ان کی خدمات کے لیے زائد از 500ایوارڈس پیش کیے گئے۔ مدھیہ پردیش کو پوشن کے دوراہ 7.7 لاکھ سرگرمیوں کے اندراج پر ایوارڈ پیش کیا گیا ، جس کے بعد آندھرا پردیش ، ٹاملناڈو اور گجرات کا نمبر آتا ہے۔

جواب چھوڑیں