چین سے بنیادی اختلافات برقرار: مائیک پومپیو

مائیک پومپیو کے ایشیائی دورہ کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان بات چیت کے دوران ایسے معاملات پر براہ راست گفتگو کی گئی جن میں دونوں ملکوں کا اتفاق نہیں ہے۔ ان میں بحیرہ جنوبی چین اور انسانی حقوق کے معاملات شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اپنا ایشیائی دورہ مکمل کر لیا ہے جس کے دوران چین میں اْن کا چینی حکام کے ساتھ غیر معمولی طور پر تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے اور دو طرفہ تعلقات خراب کرنے کا الزام عائد کیا۔ یوں پومپیو کا دورہ چین، شمالی کوریا کے دورے سے یکسر مختلف رہا جسے دونوں فریقین نے مثبت اور تعمیری قرار دیا تھا۔ایشیا کے اس دورے کے دوران پومپیو جنوبی کوریا اور جاپان بھی گئے تھے۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو اور اْن کے چینی ہم منصب وانگ ڑی نے دورہ چین کے آغاز میں صحافیوں کے سامنے مصافحہ کیا۔ تاہم اْنہوں نے اس ملاقات میں غیر معمولی طور پر بلا تکلف اور غیر سفارتی الفاظ استعمال کئے۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے کہا کہ ہم امریکہ سے اس قسم کے غلط اقدامات کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ چین اور امریکہ کو تعاون اور دونوں کے مفاد کے لئے سمت درست کرنے کے عمل پر کاربند ہونا پڑے گا بجائے اس کے کہ وہ تنازعات اور مخالفت کی غلط راہ اپنائیں۔امریکی وزیر خارجہ پومپیو کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کچھ انداز میں چلے جسے آپ سب کرنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ ہمارے دونوں ممالک کے عوام کے لئے اچھے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے وسیع تر اور تمام مسائل کا احاطہ کرنے پر مبنی بات چیت ہوتی۔چینی وزیر خارجہ وانگ نے امریکہ پر چین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکہ تائیوان کے معاملے پر ایسی حکمت عملی اپنا رہا ہے جو چین کے بنیادی مفادات کے خلاف ہے۔اس دورے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان بات چیت کے دوران ایسے معاملات پر براہ راست گفتگو کی گئی جن میں دونوں ملکوں کا اتفاق نہیں ہے۔ ان میں بحیرہ جنوبی چین اور انسانی حقوق کے معاملات شامل ہیں۔تاہم دونوں وزرائے خارجہ نے زیادہ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس بارے میں امریکہ کے نائب صدر مائک پینس کا کہنا تھا کہ ’’اگر سیدھی بات کی جائے تو صدر ٹرمپ کی قیادت مؤثر طور پر کام کر رہی ہے؛ اور چین ایک مختلف انداز کے امریکی صدر کی خواہش رکھتا ہے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ چین امریکی جمہوریت میں مداخلت کر رہا ہے۔‘‘

جواب چھوڑیں