کشمیر: بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ، ریل خدمات پھر معطل

جموں وکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے پولنگ والے علاقوں میں دی گئی ‘ہڑتال’ کی کال کے پیش نظر وادی میں شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بدھ کو معطل رکھی گئیں۔ وادی میں 8 اکتوبر کو پہلے مرحلے کی پولنگ کے موقع پر بھی ریل خدمات کو معطل رکھا گیا تھا۔ محکمہ ریلوے کا کہنا ہے کہ یہ خدمات سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ایک دن کے لئے معطل رکھی گئی ہیں۔ محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ‘ہم نے آج (بدھ کے روز) چلنے والی تمام ریل گاڑیاں معطل کردی ہیں’۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر سے براستہ جنوبی کشمیر جموں خطہ کے بانہال تک کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان بھی کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ‘ہمیں گذشتہ شام ریاستی پولیس کی طرف سے ایک ایڈوائزری موصول ہوئی جس میں ریل خدمات کو احتیاطی طور پر معطل رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ ہم نے اس ایڈوائزری پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریل خدمات کو دن بھر کے لئے معطل رکھنے کا فیصلہ لیا۔ پولیس کی طرف سے گرین سگنل ملنے پر ریل خدمات کو بحال کیا جائے گا’۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا فیصلہ ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں اور ریلوے املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے اٹھایا گیا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی میں سال 2016 میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ مہینوں تک معطل رکھا گیا تھا۔ بتادیں کہ مزاحمتی قیادت نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پربھی متعلقہ مقامات اور علاقہ جات میں مکمل بائیکاٹ اور احتجاجی ہڑتال کرکے بقول ان کے اس نام نہاد مشق سے عملاً دور رہ کر اسے کلی طور پر مسترد کرنے کی اپیل دہرائی ۔ بیان میں کہا گیا کہ جن علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کی جائے ان میں سرنگر میں سولنہ، آلوچی باغ، ایس ڈی کالونی بتہ مالو، زیارت بتہ مالو، شہید گنج، کرن نگر، چھتہ بل، قمرواری، بمنہ ایسٹ، بمنہ ویسٹ، نندریشی کالونی، پارمپورہ، زینہ کوٹ، لاوے پورہ، مجہ گنڈ، ٹنکی پورہ، حبہ کدل، بربرشاہ، فتح کدل اور منور آبادشامل ہیں۔اس کے علاوہ لنگیٹ، سمبل، کنزر، وترگام، چرارشریف، بیروہ، ماگام، یاری پورہ، فرصل، اننت ناگ اور بجبہاڑہ میں بھی ہڑتال کی جائے ۔ مزاحمتی قائدین نے بیان کے مطابق عوام سے یہ بات زور دیکر کہی کہ خون سے سینچی ہوئی ہماری حق خودارادیت کی تحریک اور بیش بہا جانی و مالی قربانیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ قیادت اور عوام بھر پور اتحاد اور یکجہتی کامظاہرہ کرکے حکومت ہند کی جانب سے حق خودارادیت کی تحریک کے خلاف رچائی جارہی سازشوں سے نہ صرف چوکنا رہیں بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے یکسوئی اور استقامت کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی میں سال 2016 میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ مہینوں تک معطل رکھا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں