کے سی آر نے عوام کے بجائے افراد خاندان کو خوشحال بنایا۔امیت شاہ کا الزام

بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے آج ریاست کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے سے متعلق کے سی آر کے وعدہ کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ساڑھے چار سال تک سکریٹریٹ سے دور رہنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ، کس طرح ریاست کو بنگارو( سنہرا) تلنگانہ بناسکتے ہیں۔ چہارشنبہ کے روز شہر کے نمائش میدان پر بی جے پی کے شکتی کیندر اور پارٹی کے بوتھ لیول کے ذمہ داروں (انچارجس) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کے چندرشیکھر راؤ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ کے سی آر کا دور حکومت، انتہائی تاریک دور رہا کے سی آر کی حکومت کو گھٹیا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس سربراہ نے ریاست کے عوام کے بجائے اپنے افراد خاندان کی خوشحالی کیلئے کام کیا ہے۔ ریاست کے عوام کی نظریں، بی جے پی پر ٹکی ہوئی ہیں عوام کا ماننا ہے کہ بی جے پی ہی عوام کی ترقی، خوشحالی کیلئے کام کرسکتی ہے۔ ہم سماجی انصاف اور وکاس کیلئے بدستور کام کرتے رہیں گے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی ، مسلمانوں کو12 فیصد تحفظات کی شدید مخالفت کرتی رہے گی ۔ ہم اس مسئلہ کو عوام کی عدالت میں لے جائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس سے مقابلہ کیلئے ہمارے ورکرس ہی کافی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے اب تک1.5605 لاکھ کروڑ روپے کے فنڈس جاری کئے ہیں۔ سڑکوں کی توسیع ، تعمیر اور مرمتی کاموں کیلئے40 ہزار کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجود کے سی آر، بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ الزام عائد کرتے ہیںکہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی بڑے پیمانے پر مدد نہیں کی ہے۔ مرکز کی اسکیمات کو ریاست میں نافذ نہیں کیا گیا ۔ ایوشمان اسکیم کو تلنگانہ میں نافذ کرنے سے انکار کردیا گیا ہے جو ریاست کے عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے ۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی، تلنگانہ میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرے گی ۔ شکتی کیندر انچارج اور بوتھ لیول انچارج کے ذریعہ وہ تلنگانہ میں اقتدار پر فائز ہوسکتی ہے ۔صرف10قائدین کے ساتھ بی جے پی نے اپنا سفر شروع کیا تھا ۔ آج دنیا کی واحد سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ پارلیمنٹ میں ہمارے330 ارکان ہیں ۔ گجرات سے آسام تک پارٹی پرچم لہرارہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مغربی بنگال ۔ ٹاملناڈو۔ آندھرا ۔ تلنگانہ ۔ کیرالا میں جب تک ہمیں کامیابی نہیں ملے گی تب تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ آسام میں ہمارے ووٹوں کا تناسب 1.2 فیصد تھا ۔ تریپورہ میں کوئی ہمارا ایم ایل اے نہیں تھا ۔ منی پور میں ہمارا وجود ہی نہیں تھا۔ہم نے آسام سے تریپورہ تک کامیابی حاصل کی ۔ تلنگانہ میں کامیابی حاصل کرنا ہمارے لئے مشکل نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ملک سے غیر ملکیوں کو باہر کرنے پر راہو گاندھی اور اپوزیشن جماعتیں، بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں 40لاکھ غیر ملکی موجود ہیں جو ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں بیرون ممالک کے کئی افراد مقیم ہیں۔ اس مسئلہ سے کے سی آر بے فکر ہیں صدر پارٹی نے کہا کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد غیر ملکی باشندوں کو ملک سے باہر کردیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ کے سی آر قبل از وقت انتخابات کرواتے ہوئے عوام پر بھاری بوجھ ڈل دیا ہے ۔ یہ انتخابات پارلیمنٹ انتخابات کے ساتھ ہوتے تو بہتر تھا لیکن کے سی آر پر2019 میں مودی لہر کا خوف طاری ہوچکا ہے۔ انہوںنے شکتی کیندرا انچارج بوتھ لیول انچارج و پارٹی ورکرس سے اپیل کی کہ دن رات محنت کریں ۔ کامیابی ہماری ہوگی۔ہم آئندہ سال17 ستمبر کو سرکاری طور پر منائیں گے ۔ اس اجلاس میں مرکزی وزراء جے پی نڈا، کرشنا داس کے علاوہ قومی ترجمان مرلی دھر ، بنڈارو دتاتریہ ایم پی‘ پارٹی صدر لکشمن شریک تھے ۔ اس موقع پر امیت شاہ کی موجودگی میں کانگریس کے قائدین دلیپ چاری اور کرن بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔

جواب چھوڑیں